.

اسرائیلی قومی سلامتی کے سربراہ کا "تعلقات میں بہتری" کے لیے اردن کا دورہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پیر کے روز اسرائیلی قومی سلامتی کے ادارے کے سربراہ ایال ہولاتا اردن اردن کے سرکاری دورے سے وطن واپس پہنچے ہیں تاہم انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ وہ عمان کے دورے پر کب گئے ہیں۔

اسرائیلی وزیر اعظم کے دفتر نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ہولاتا نے یہ دورہ وزیر اعظم نفتالی بینیٹ کی ہدایت پر کیا۔ چونکہ ہولاتا سرکاری طور پر اسرائیلی وزیر اعظم کی قومی سلامتی کی مشیر ہیں۔

اخبار "اسرائیل ہیوم" نے اطلاع دی ہے کہ ہولاتا نے اردن کے دارالحکومت عمان میں حکام کے ساتھ متعدد ملاقاتیں کیں، جس کا مقصد اردنی باشندوں کو ان اقدامات سے آگاہ کرنا تھا جو اسرائیل امریکی صدر جو بائیڈن کے جولائی میں دورہ فلسطین کے موقع پر فلسطینیوں کے لیے اٹھائے گا۔ .

اخبارنے نشاندہی کی کہ ان اقدامات میں فلسطینیوں کے لیے اقتصادی سہولیات کا پیکج، اسرائیلیوں کے خلاف کارروائیوں میں ملوث فلسطینیوں کے گھروں کی مسماری کو روکنا اور بائیڈن کے دورے کے اختتام تک اسے ملتوی کرنا شامل ہے۔

اخبار کے مطابق ہولاتا کا دورہ اردنی وزیر اعظم کے بیانات پراسرائیلی غصے کے مختصر عرصے کے بعد آیا ہے، جس کے دوران انہوں نے فلسطینیوں سے رمضان کے مہینے میں اسرائیل کے خلاف مزاحمت کرنے کی اپیل کی تھی۔

اخبار نے اسرائیل میں سیاسی حکام کے حوالے سے کہا ہے کہ انہیں یہ جان لینا چاہیے کہ اردن نے سرخ لکیرعبور کر لی ہے۔ نیز یہ کہ عمان میں اسرائیلی اور اردنی حکام کے درمیان کئی بار طوفانی بات چیت ہوئی۔

اسرائیلی’ وللا‘ نیوز ویب سائٹ نے ایک اعلیٰ سطحی ذریعے کے حوالے سے بتایا ہے کہ ہولاتا کا دورہ ان تعلقات کو بحال کرنے کی کوشش ہے جو رمضان کے مہینے میں مسجد الاقصی پر یہودیوں کے دھاوے کے واقعات کی وجہ سے بحران کا شکار ہو گئے تھے۔

کئی اسرائیلی رپورٹس میں توقع کی جا رہی تھی کہ ہولاتا کئی سیاسی اور سیکیورٹی امور پر بینیٹ کے ساتھ اختلافات کی وجہ سے گذشتہ ماہ اپنے عہدے سے مستعفی ہو جائیں گے۔

مقبول خبریں اہم خبریں