.
روس اور یوکرین

ترکی اپنے ڈرونز کی’’فتوحات‘‘ پریوکرین کواسلحہ کی فروخت میں اب محتاط کیوں ہوگیا؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی کی دفاعی صنعت کے ادارے کے صدر نے کہا ہے ان کے ساختہ یوکرین کومہیا کردہ ڈرونزنے روس کے حملے کے خلاف کیف کے دفاع میں مدد کی ہے مگر اب ترکی یوکرین کو مزید ہتھیارمہیا کرنے کے بارے میں محتاط ہوگیا ہے۔

ترکی کی دفاعی صنعت کے ادارے کے سربراہ اورصدر رجب طیب ایردوآن کی حکومت کے اعلیٰ عہدہ داراسماعیل دیمیر نے یہ بات وال اسٹریٹ جرنل سے گفتگو کرتے ہوئے کہی ہے۔انھوں نے بتایاکہ’’ترکی واحد ملک ہے جو دونوں فریقوں کو امن کی میز پرلاسکتا ہے لیکن اگر آپ ایک طرف ہزاروں ہتھیار بھیجیں گے توآپ یہ کیسے کر سکتے ہیں؟‘‘

انھوں نے مزید کہا:’’ہمیں دونوں فریقوں سے بات کرنے کے قابل ہونا چاہیے۔کسی کو دونوں فریقوں کے کافی قریب ہونا چاہیے، اعتماد پیدا کرنا چاہیے۔ ہماری ترجیح یہ یقینی بنانا ہے کہ امن قائم رہے‘‘۔

ان سے جب پوچھا گیا کہ آیاترکی بیراخترٹی بی 2 ڈرونز یوکرین کومہیا کرنے کا سلسلہ جاری رکھے گا؟اس پر دیمیرنےکہا:’’کچھ چیزیں چل رہی ہیں لیکن میں یہ کہنے کی پوزیشن میں نہیں ہوں لیکن ہم بہت زیادہ محتاط ہیں‘‘۔

ترکی کی بحیرۂ اسود کے کنارے واقع یوکرین اور روس دونوں کے ساتھ سمندری سرحد واقع ہے اوراس کے دونوں ممالک کے ساتھ اچھے تعلقات استوار ہیں۔انقرہ نے تنازع کے آغاز کے بعد سے زیادہ ترغیرجانبدار رہنے کی کوشش کی ہے۔

اس نے یوکرینی اور روسی وفود کے درمیان بات چیت کی میزبانی کی اور امن مذاکرات کے لیے دونوں ممالک کے صدورکا سربراہ اجلاس بلانے پر کام کر رہا ہے۔اس نے کیف کی حمایت کی ہے جبکہ ماسکو کے یوکرین پرحملے پر تنقید ضرور کی ہے لیکن اس نے روس کے خلاف مغرب کی پابندیوں میں شامل ہونے سے انکارکیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں