.

اسرائیل کو ایران پر حملوں سے نہیں روکا: امریکی اہلکار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی صدرجو بائیڈن پرمشرق وسطیٰ میں امریکا کے اہم اتحادیوں کی طرف سے دباؤ بڑھ رہا ہے کہ وہ ایران کے جوہری عزائم کو روکنے کے لیے ایک قابل عمل منصوبہ تیار کریں کیونکہ 2015 کے جوہری معاہدے کی بحالی کی امیدیں معدوم ہو جاتی جا رہی کیونکہ بائیڈن بطور صدرآئندہ ماہ سعودی عرب اور اسرائیل کے لیے اپنے پہلے دورے کی تیاری کر رہے ہیں۔

اس ماہ کے اوائل میں واشنگٹن کے دورے پر سعودی نائب وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان نے قومی سلامتی کے اعلیٰ حکام کو بتایا کہ وہ امریکا اور سعودی عرب کے تعلقات کی بحالی پرخوش ہیں۔ ذرائع کے مطابق انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ امریکا نے ایسا نہیں کیا۔ ایران کے جوہری عزائم اور بیلسٹک میزائل ہتھیاروں سے نمٹنے اورعلاقائی عسکریت پسند گروپوں کی مدد روکنے کے لیے ایک جامع حکمت عملی تیار کی ہے۔ علاقائی حکام نے کہا کہ انتظامیہ نے سعودی عرب سمیت اتحادیوں کو یہ نہیں بتایا ہے کہ جوہری مذاکرات ناکام ہونے کی صورت میں ممکنہ "پلان بی" کیا ہو گا۔

امریکی انتظامیہ کے ایک سینیر اہلکار نے کہا کہ"ایران کے ساتھ حالات گرم ہو رہے ہیں"۔ انہوں نے ایران کی طرف سے جوہری نگرانی کے کیمرے ہٹانے اور ایران کے خلاف اسرائیل کے خفیہ اور جارحانہ اسرائیلی کارروائیوں کے سلسلے کا حوالہ دیا۔

امریکی بحریہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ پیر کے روز تین ایرانی بحری جہازوں نے امریکی بحریہ کے دو جہازوں کا تعاقب ایک "غیر محفوظ اور غیر پیشہ ورانہ انداز میں" کیا اور آبنائے ہرمز میں امریکی جہازوں کے 50 گز قریب آ گئے۔ "یہ ایک بڑا حصہ ہے کہ ہمیں یہ سفر کیوں کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ ہمارے اتحادی جاننا چاہتے ہیں کہ ہم اس بارے میں سنجیدہ ہیں"۔

قومی سلامتی کونسل کے ترجمان نے’سی این این‘ کو بتایا کہ ہم ایران کے بارے میں امریکی پالیسی کے بارے میں اپنے علاقائی شراکت داروں کے ساتھ قریبی مشاورت کے لیے پرعزم ہیں۔ عمومی طور پر ہم علاقائی سلامتی اور استحکام کے مسائل پر خطے کے ممالک کے درمیان بات چیت کی حمایت کرتے ہیں۔

قانون ساز، علاقائی شراکت دار اور اتحادی مزید معلومات کے لیے وائٹ ہاؤس پر دباؤ ڈال رہے ہیں، لیکن انتظامیہ حساس جوہری مذاکرات کو پٹری سے اتارنے سے محتاط ہے۔

بات چیت سے واقف ذرائع نے بتایا کہ امریکی انتظامیہ نے کہا ہے کہ وہ ایران پر اقتصادی دباؤ برقرار رکھے گی اور اگر معاہدہ ناکام ہوتا ہے تو پابندیوں کے نفاذ کو تیز کیا جائے گا۔ امریکا ایران کے خلاف ایک علاقائی اتحاد بنانے کے لیے بھی کام کر رہا ہے، خلیجی ریاستوں پر زور دے رہا ہے کہ وہ ایرانی حملوں کے خلاف اپنے تمام فضائی اور میزائل دفاعی نظام کو مربوط کریں۔

مقبول خبریں اہم خبریں