.

ایران سے کشیدگی، پِٹرولیم کی ریکارڈ قیمتیں؛ بائیڈن امریکی پالیسی کی تجدیدِنوپرمجبور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکامیں سب سے زیادہ توجہ معاشی بدحالی اورافراطِ زرکی بڑھتی ہوئی شرح پرمرکوزرہی ہے لیکن بائیڈن انتظامیہ کا خارجہ پالیسی کے ضمن میں ایک اہم اقدام حالیہ ہفتوں میں بہت سے میڈیا ذرائع کی شہ سرخیوں کا موضوع رہا ہے اور یہ یوکرین کی جنگ نہیں تھی۔

امریکی صدر جو بائیڈن نے ایک سال قبل عہدہ سنبھالنے کے بعد مشرق اوسط کے اپنے پہلے دورے کا باضابطہ اعلان کیا تھا۔جولائی میں مغربی کنارے، اسرائیل اور سعودی عرب جائیں گے۔سعودی مملکت کے مجوزہ دورے ہی پر بہت سے سیاست دانوں اور تجزیہ کاروں نے کان کھڑے کیے ہیں۔

صدر کے خطے کے پہلے دورے کے دو مقامات غرب اردن اور اسرائیل پر بہت کم توجہ دی گئی جبکہ بائیڈن کی اپنی پارٹی کی جانب سے مسلسل تنقید کی جارہی ہے کہ وہ سعودی عرب کا دورہ کیوں کر رہے ہیں کیونکہ جب وہ صدر کا انتخاب لڑ رہے تھے توانھوں نے سعودی عرب کو عالمی برادری میں ’’اچھوت‘‘ بنانے کا عہد کیا تھالیکن امریکا میں مڈٹرم انتخابات کے بعد کیپٹل ہل کے دو ایوانوں میں سے کم ازکم ایک پر ری پبلکن کا قبضہ ہونے کا اندازہ ہے۔اس لیے صدربائیڈن اپنی خارجہ پالیسی کو ازسرنو مرتب کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔

خیال کیا جاتا ہے کہ افغانستان سے امریکا کی قیادت میں غیرملکی فوجوں کے انخلا نے روسی صدر ولادی میرپوتین کی یوکرین پرحملےکی اشتہا بڑھا دی تھی اور واشنگٹن اب پریشان ہے کہ بیجنگ بھی اس کی پیروی کرسکتا ہے اور تائیوان پرحملہ کر سکتا ہے۔

امریکی خارجہ پالیسی سے روایتی طور پر متاثر نہ ہونے والے اوسط امریکی ووٹر کے باوجود گیس کی ریکارڈ قیمتوں نے اس بارے میں سوالات اٹھائے ہیں کہ ایسا کیوں ہو رہا ہے۔یوکرین پرروسی حملہ اس کی بنیادی وجوہات میں سے ایک ہے۔ لیکن ری پبلکن بائیڈن کوترقی پسند ڈیموکریٹس کی طرف سے پیش کی کردہ ’’صاف توانائی‘‘ کی پالیسی کی فروخت کا ذمہ دار ٹھہراتے ہیں۔

بائیڈن نے’’فوسل ایندھن کے خاتمے‘‘ پر زبردست مہم چلائی تھی اور گذشتہ ہفتے وائٹ ہاؤس نے کہا تھا کہ امریکا کے اندر مزید تیل کی ڈرلنگ کی کوئی ضرورت نہیں۔ اس کے بجائے گیس اسٹیشنوں کوچلانے کے لیے خام تیل کی سپلائی کو بہتر بنایا جانا چاہیے۔

گیسولین کی قیمتوں میں اضافے کے امکانات کو دیکھتے ہوئے بائیڈن نے سعودی عرب سمیت اعلیٰ حکام کو خلیج روانہ کیا تاکہ تیل پیدا کرنے والے ممالک روس کے ساتھ معاہدہ ختم کر سکیں اور تیل کی پیداوارمیں اضافہ کر سکیں۔ اس درخواست کو ایک سے زیادہ بار مسترد کیا جاچکا ہے اور مبصرین خلیج کے بارے میں صدربائیڈن کے جارحانہ انداز کو بنیادی وجہ قرار دیتے ہیں۔

بائیڈن نے انتخابی مہم کے دوران میں اپنے تبصروں کے بعد خلیجی دارالحکومتوں کو پریشان کیا تھااور پھر اپنی خارجہ پالیسی کے کچھ ابتدائی اقدامات کے ساتھ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کو نشانہ بنایا تھا۔ان میں ایران کے حمایت یافتہ حوثیوں کو دہشت گردی کی بلیک لسٹ سے ہٹانا، الریاض اور ابوظبی کو ہتھیاروں کی فروخت منجمد کرنا اور سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے ساتھ میل ملاقات سے انکار کرنا شامل تھا۔

بائیڈن نے واشنگٹن پوسٹ کے نامہ نگار جمال خاشقجی کے قتل کے بارے میں انٹیلی جنس کو بھی ڈی کلاسیفائی کیا۔اس میں سعودی عرب کے سرکاری حکام کو مورد الزام ٹھہرایا گیا تھا۔

اگلے ماہ بائیڈن سعودی عرب کے شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور ولی عہد سے ملاقات کرنے والے ہیں۔مڈل ایسٹ انسٹی ٹیوٹ کے پروگرام برائے معاشیات و توانائی کی ڈائریکٹر کیرن ینگ نے کہا کہ میرے خیال میں انتظامیہ نے تسلیم کیا ہے کہ امریکا اور سعودی تعلقات میں تنازع یا خلل کو طول دینے میں کچھ فائدہ نہیں اور اب وقت آگیا ہے کہ متعدد اہم علاقائی اور عالمی اقتصادی امور پر بات چیت شروع کی جائے جو سعودی عرب اور امریکا کے مفادات کے لیے اہم ہیں۔

امریکا یوکرین کے خلاف جنگ پر روس کی مالی معاونت اورمرکزی وسائل کا گلا گھونٹنے کے لیے یورپ کو روسی گیس کے متبادل تلاش کرنے میں بھی انتھک محنت کر رہا ہے۔ ان متبادلات میں سے ایک خلیجی ممالک کو یورپ کو مزید تیل اور گیس فروخت کرنے کی ترغیب دینا ہے۔

جارج واشنگٹن یونیورسٹی کے ایک معاون پروفیسر فراس مکساد نے کہا کہ واضح طور پربائیڈن انتظامیہ میں یہ تسلیم کیا گیا ہے کہ مشرق اوسط ہی منڈیوں پراثر انداز ہونے میں زیادہ کردار ادا کرے گا، خاص طور پر یورپ کو روسی گیس کے متبادل تلاش کرنے میں وہ اہم ثابت ہوسکتا ہے۔

ایران اور اس کی آلہ کار تنظیمیں

عرب ممالک اور اسرائیل کے درمیان تعلقات میں گرم جوشی نے بھی اس بات پر اثر ڈالا ہے کہ امریکا ایران کے بارے میں اپنی پالیسی کو کس طرح تشکیل دیتا ہے۔

امریکامیں تیل کی بے تحاشا قیمتوں کے علاوہ پابندیوں سے نجات کے بدلے تہران کے ساتھ جوہری معاہدے تک پہنچنے میں امریکی انتظامیہ ابھی تک کامیاب نہیں ہوئی ہے۔

اس کے علاوہ بائیڈن کی جانب سے یمن کے حوثیوں کی بہ طور دہشت گرد نامزدگی کی تنسیخ کے بعد اس گروہ کی حوصلہ افزائی ہوئی اور اس نے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے خلاف اپنے بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز سے حملوں میں اضافہ کیا تھا۔

مبیّنہ طور پر متحدہ عرب امارات نے اس سال کے اوائل میں دوبارحوثی ملیشیا کے حملوں کے بعد امریکی حکام کے سست ردعمل پرمایوسی کا اظہار کیا تھا۔

سعودی عرب نے حوثیوں کے سیکڑوں حملوں کے جواب میں پیٹریاٹ میزائل شکن نظام کی تنصیب کے لیے نمایاں رقم بھی خرچ کی ہے۔ اس معاملے سے واقف امریکی ذرائع کے مطابق امکان ہے کہ واشنگٹن آنے والے ہفتوں میں سعودی عرب کو میزائل شکن نظام فروخت کرنے کا اعلان کرے گا۔

بائیڈن کے خصوصی ایلچی ٹم لینڈرکنگ کے مطابق ایران نے یمن میں برسوں سے جاری جنگ میں مثبت کردار ادا کرنے کے لیے کچھ نہیں کیا اور نہ ہی کیا ہے۔ دوسری جانب امریکی حکام کا کہنا ہے کہ سعودی عرب نے حوثی اہداف پرعرب اتحاد کے فضائی حملوں کے دوران شہری ہلاکتوں کو کم کرنے کے لیے کام کرنے سمیت اقدامات کیے ہیں تاکہ سات سال میں پہلی دو ماہ کی جنگ بندی تک پہنچنے میں مدد مل سکے۔حال ہی میں یمن میں جاری اس جنگ بندی میں مزید دوماہ کی توسیع کی گئی تھی۔

دریں اثنا ایران اوراسرائیل کے درمیان نام نہادسردجنگ کھل کر سامنے آ گئی ہے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ ایرانی سائنس دانوں اور پاسداران انقلاب کے متعدد ارکان کے قتل کے پیچھے اسرائیل کا ہاتھ کارفرما تھا۔

مشرقِ اوسط کی سیاست کے ایک مبصرعلی شہابی نے سی این این کو بتایا کہ ’’سعودی عرب ایران کو روکنے میں امریکا کی زیادہ سے زیادہ شمولیت چاہتا ہے ‘‘۔

صدربائیڈن شاہ سلمان کی باضابطہ دعوت پرسعودی عرب جا رہے ہیں اور جی سی سی پلس تھری سربراہ اجلاس میں شرکت کریں گے۔اس میں مصر، اردن اور عراق کے سربراہان بھی شامل ہوں گے۔

مقبول خبریں اہم خبریں