.

بھارت ۔۔۔ عہدہ صدارت قبائلی خاتون دروپدی مرمو کے نام ہونے کا امکان

بی جے پی اجلاس کے بعد مودی نے خاتون کے حق میں ٹویٹ بھی کیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

بھارت میں غریب قبائلی طبقے کی نمائندہ خاتون کو صدر بنانے کی تیاری۔ اس سلسے میں بھارتی حکمران جماعت بی جے پی نے ایک روز قبل پارٹی کی اعلی سطح پر مشاورتی عمل بھی مکمل کر لیا تھا ۔ اس میں دروپدی مرمو نام عہدہ صدارت کے لیے بطور خاص زیربحث آیا تھا۔

بعد ازاں وزیر اعظم نریندر مودی نے اپنے ایک ٹویٹ میں اس کا غیر رسمی اظہار بھی کر دیا تھا۔ جس میں 64 سالہ مرمو کا ذکر کرتے ہوئے کہا '' مرمو نے اپنی ساری زندگی معاشرے کے لیے وقف کر رکھی ہے اور غریبوں کے لیے انہوں نے بہت کام کیا ہے۔''

مرمو کے والد اور دادا ضلع اڑیسہ کے رہنے والے تھے اور اپنے گاوں کے سربراہ تھے۔ بھارت کے دور افتادہ ماحول میں رہنےوالے یہ قبائیلی لوگ عام طورغربت زدہ اور تعلیم یا صحت کی سہولتوں محروم اور پسماندہ مانے جاتے ہیں ۔ ان کی زندگی کا زیادہ تر انحصار قدرتی وسائل پر ہوتا ہے اور وہ اپنی قبائلی ثقافت میں مگن رہتے ہیں۔

منصب صدارت کے لیے باضابطہ انتخاب میں کامیابی کے بعد وہ بھارت کی دوسری خاتون صدر ہوں گی۔ بھارت کے صدارتی منصب کے لیے انتخاب 18 جولائی کو متوقع ہے۔

مرمو کا تعلق مشرقی اڑیسہ سے ہے اور وہ ریاست جھاڑ کھنڈ کی گورنر رہ چکی ہیں۔

واضح رہے بھارتی حکمران جماعت بی جے پی اس حوالے سے اس پوزیشن میں ہے کہ وہ مقننہ اور ریاستی سطحوں سے مرمو کے لیے حمایت حاصل کر سکے۔

منگل کے روز ہونے والے پارٹی اجلاس کے بعد پارٹی سربراہ نے رپورٹرز کو بتایا تھا '' وہ خیال کرتے ہیں کہ صدارتی عہدے کے لیے امیدوار ایک قبائلی خاتون ہوں گی''۔

بی جے پی اجلاس میں عہدہ صدارت کے لیے دوسرا نام جس کے حق میں بھی بعض لوگ موجود تھے 84 سالہ یشونت سنہا کا تھا۔ وہ 1998 سے 2002 میں بی جے پی حکومت کے مرکزی وزیر خزانہ رہ چکے ہیں۔ تاہم پارٹی میں فنانشل ایشوز پر نریندر مودی سے اختلاف پر 2018 میں پارٹی چھوڑ گئے تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں