.

’حوا کی بیٹی نے جان دے کر درندہ نما انسان سے اپنی عصمت بچالی‘

یمنی لڑکی درندہ صفت ڈرائیور سے بچنے کے لیے چلتی گاڑی سے کود گئی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن میں حوا کی بیٹی نے ایک درندہ صفت شخص سے بچنے کے لیے اپنی جان کی بازی لگا دی۔ وہ جان پر کھیل گئی مگراپنی عزت وآبرو پر حرف نہ آنے دیا۔

جنگ زدہ ملک یمن سے آنے والی اس خبر کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر بھی وائرل ہے۔ ’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘ نے اس واقعے کی تفصیلات اکھٹٰی کی ہیں۔ معلوم ہوا ہے کہ ایک نوجوان لڑکی یریم گورنری میں پبلک ٹرانسپورٹ کی ایک وین پر سوار ہوئی۔ گاڑی میں صرف ڈرائیور ہی تھا۔ اس نے مبینہ طورپر لڑکی کو حراساں کرنے کی کوشش کی۔ لڑکی کو اپنی آبرو خطرے میں محسوس ہوئی تواس نے جان کی پرواہ کیے بغیر چلتی گاڑی سے چھلانگ لگا دی۔

لڑکی کو گاڑی سے چھلانگ لگاتے دیکھا جا سکتا ہے۔ معلوم ہوا ہے کہ درندہ صفت ڈرائیور سے عزت بچانے والی لڑکی موقعے پر ہی دم توڑ گئی تھی۔ عزت وناموس کی خاطراپنی جان کی قربانی دینے کا یہ ایک بے مثال واقعہ ہے۔ یہ واقعہ یمن کی یریم گورنری کی ایک شاہراہ پرپیش آیا۔

عصمت دری کے خوف کا ہولناک لمحہ جو کیمرے میں محفوظ ہوگیا

سڑک کے کنارے نصب ایک خفیہ کیمرے میں یہ واقعہ محفوظ ہوگیا جس میں لڑکی کوگاڑی سے کودتے دیکھا جا سکتا ہے۔ تفصیلات کے مطابق لڑکی نے چھلانگ لگا کر خود کشی کی۔

اس واقعے کی ویڈیو سوشل میڈٰیا پر وائرل ہوتےہی جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی اور عوامی حلقوں کی طرف سے اس پر سخت رعمل سامنے آ رہا ہے۔ شہریوں نے لڑکی کی موت کا سبب بننے والے ڈرائیور کو عبرت ناک سزا دینے کا مطالبہ کیا ہے۔

شہریوں کا کہنا ہے کہ لڑکی نے اپنی عزت، اپنے خاندان کی ساکھ بچانے اور درندے سے خود کو بچانے کے لیے جان کی بازی لگائی۔ عصمت وآبرو کی حفاظت کے لیے اس سے بڑی قربانی دینے کی مثال کم ہی ملتی ہے۔ لڑکی کو جان پر کھیلنے کے لیے اس درندہ صفت شخص نے مجبور کیا جسے قرار واقعی سزا دلائی جانی چاہیے اور اسے عبرت کا نشان بنا دینا چاہیئے۔

رائے عامہ کا کیس

انسانی حقوق کے کارکنوں اور ذرائع ابلاغ نے اس واقعے کو کوریج دیتے ہوئے اسے معاشرے میں ایک غیرمعمولی سانحہ قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ معاشرے کی انسانی اقدار کی کھلم کھلا خلاف ورزی کی علامت ہے۔ انہوں نے اس واقعے کو عزت وناموس کے ساتھ کھلواڑاور معاشری وقار اور اس کی اچھی اقدار کا سرعام قتل قرار دیا۔ جان کی بازی لگانے والی لڑکی کو ’شہیدہ ناموس‘قرار دیا۔ اس لڑکی نے عزت بچا کر جان دے دی مگراس نے جان کی قربانی دے کراپنے خاندان، قبیلے اور ملک کا سر فخر سے بلند کردیا۔

عینی شاہدین کے بیانات

اس افسوسناک واقعے کے عینی شاہدین اور سیکیورٹی ذرائع نے’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘ کو بتایا انیس جون کو مغرب سے تھوڑی دیر قبل لڑکی یریم گورنری میں اپنے گھر جانے کے لیے ایک وین پر سوار ہوئی۔ ڈرائیور نےاس موقعے سے ناجائز فایدہ اٹھانے کی کوشش کی اور لڑکی کو ہراساں کرنے لگا۔ ڈرائیور گاڑی کو بھگا کرکسی ویران جگہ لے جانا چاہتا تھا مگر لڑکی نے تیزرفتار وین سے چھلانگ لگا دی۔ گاڑی سے گرنے پراسے شدید چوٹیں آئیں جو اس کے لیے جان لیوا ثابت ہوئیں اور وہ موقعے پر ہی دم توڑ گئی۔

ملزم کی شناخت کیسے ہوئی؟

عینی شاہدین اور میڈیا کارکنوں نے بتایا کہ لڑکی کے کود جانے کے بعد ڈرائیور نے گاڑی خراب کرنے کا ناٹک کیا اور گاڑی کے پہیوں سے ہوا نکال کریہ ظاہر کرنے کی کوشش کی گاڑی خراب ہوگئی تھی۔ پولیس کو اطلاع ملتے ہی جائے وقوعہ کے ارد گر لگے کیمروں سے اس کی فوٹیج حاصل کی گئی۔ کیمروں کی فوٹیجز سے گاڑی کے رنگ اور اس کے نمبر کی شناخت کے بعد اس کی تلاش شروع کی گئی۔ پولیس کو گاڑی ملزم کے گھر کے سامنے کھڑی ملی جب کہ ملزم خود فرار ہوگیا تھا۔ تاہم مقامی لوگوں کی مدد سےاس کے ٹھکانے کا پتا چل گیا۔ وہ ایک ویران مکان میں چھپا ہوا تھا۔ پولیس نے اسے پکڑ کر اس کے خلاف کارروائی شروع کردی ہے۔

بس ڈرائیور کی ایک عام تصویر
بس ڈرائیور کی ایک عام تصویر

لڑکی نے جان پرکھیل کرقوم اور قبیلے کا سرفخر سے بلند کردیا

سماجی رابطوں کی ویب سائٹس کے علاوہ عزت کی خاطر جان کی بازی لگانے والی لڑکی کی کہانی زبان زد عام ہے۔ ہر گھر میں اس کا چرچا ہو رہا ہے۔ لوگ اسے عزت وناموس کی خاطر بہادری کا بے مثال واقعہ قرار دیتے ہوئے اپنی بچیوں کے لیے اسے ایک مثال قرار دے رہے ہیں۔

شہریوں کا کہنا ہےکہ نوجوان لڑکی نے درندہ صفت شخص سے اپنی عزت بچا کر اپنی قوم، قبیلے اور پورےملک کی عزت بلند کردی ہے۔

ایک صارف علی یحییٰ نے کہاکہ ’’اس واقعے کی مذمت ہونی چاہیے اور بچیوں کی عزتوں سے کھیلوں والوں کو عبرت کا نشان بنایا جانا چاہیے۔ ان کاکہنا ہےکہ اگر ایسے واقعات کی روک تھام نہ کی گئی تو کل پھر ایسا واقعہ رونما ہوسکتا ہے۔ ہم ایسی چیزیں دیکھتے اور سنتے ہیں جو اس جرم سے زیادہ تکلیف دہ اور المناک ہیں۔‘‘

مقبول خبریں اہم خبریں