.

دیوالیہ پن سے نجات کے لئے سری لنکا نے وزارت خزانہ جواری ٹائکون کے سپرد کر دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سری لنکا میں ہونے والی بد ترین تباہی کے بعد سری لنکا میں جوئے کے ایک بڑے ٹائکون کو دیوالیہ ہو چکے ملک کی معیشت بحال کرنے کا ٹاسک مل گیا ہے۔ 54 سالہ دھمیکا پریرا ایک ایسے وقت میں پارلیمنٹ میں آئے ہیں جب وزارت عظمی پرفائز شخصیت انہیں ماضی میں کرپشن کا ذمہ دار قرار دے چکے ہیں۔

پریرا ایک عرصے تک سری لنکا کے حکمران خاندان کے وفادار رہے ہیں۔ آج کل اس حکمران خاندان کوعوام کی طرف سے معاشی بد انتظامی کے الزام کا سامنا ہے کہ اس خاندان کی وجہ سے سری لنکا معاشی تباہی سے دوچار ہوا ہے۔ دھمیکا پریرا سری لنکن صدر گوتا بایا راجپاسکا کے وزیر خزانہ رہنے والے بھائی باسل کی جگہ لے رہے ہیں۔ جو اس سے پہلے سری لنکا کے وزیر خزانہ تھے۔ حال ہی میں وزیر خزانہ نے اپنے عہدے سے مستعفی ہونے کا اعلان کیا ہے۔ اب ان کی جگہ پریرا وزیر خزانہ ہوں گے اور جلد اپنا عہدہ سنبھالیں گے۔ انہیں اس عہدے کے لیے صدر نے نامزد کیا ہے۔

واضح رہے ملک کی بد ترین معاشی تباہی کے بعد ملک کو اس بحران سے نکالنے کے لیے ایک نئی متحدہ حکومت قائم کی گئی ہے۔ اب پریرا بھی اس کابینہ کے رکن ہوں گے جس کا وزیراعظم رانیل وکرما کو بنایا گیا ہے۔ رائیل وکرما نے 2015 میں پریرا پر الزام لگایا تھا کہ وہ جوئے خانے کا سربراہ ہونے کے ساتھ ساتھ ایسا فرد بھی ہے جس نے راجا پاکسا کی کرپٹ حکومت رجیم کو تحفظ دیا ہے۔ نیز 2015 میں ہی موجودہ وزیر اعظم نے "اپنی کابینہ کے نامزد وزیر خزانہ کو سری لنکا کے چار کرپٹ ترین کاروباری لوگوں میں سے ایک قرار دیا تھا۔''

بدھ کے روز جب پریرا نے سپیکر چیمبر میں سری لنکن پارلیمنٹ کی رکنیت کا حلف اٹھایا تو سب سے پہلے اسی وزیر اعظم نے آگے بڑھ کر پریرا سے مصافحہ کیا۔ پریرا کی بکنگ، ہوٹلز، مینو فیکچرنگ، ایکسپورٹس اور لاجسٹکس سے متعلق دلچسپی بھی پہلے سے موجود ہے۔ اب وہ ایسے وقت میں وزارت خزانہ کا قلمدان سنبھال رہے ہیں جب سری لنکا کو گذشتہ کئی ماہ سے تیل سمیت دیگر ضروری اشیا کی سخت قلت کا سامنا ہے۔ گیس سٹیشنوں پر روزانہ لمبی لمبی قطاریں لگی ہوتی ہیں۔ بلا ناغہ بلیک آوٹ کیا جارہا ہے اور افراط زر میں اضافے نے عوام کا جینا محال کر رکھا ہے۔

تقریبا سوا دو کروڑ آبادی کا حامل سری لنکا 51 ارب ڈالر کے غیر ملکی قرضوں کے ساتھ اب ڈیفالٹ کر چکا ہے۔ اب اسے آئی ایم ایف سے '' بیل آوٹ '' پیکج کے لیے کوشاں ہے۔

نامزد وزیر خزانہ نے دعوی کیا ہے کہ وہ سری لنکن عوام کی فی کس آمدنی کو چین میں فی کس آمدنی سے بھی اوپر یعنی 12000 ڈالر فی کس آمدنی تک لے کر جائیں گے۔ انہوں نے سری لنکا کے سیاحتی ویزے کے دس سال تک اجرا کے زریعے بھی زرمبادلہ لانے کی بات کی ہے۔ بہر حال ملک کے بڑے جوا خانے کا مالک اب ملک کے محدود تر ہو چکے خزانے کا بھی مختار ہو گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں