.

افغانستان میں زلزلے کے ملبے میں زندہ افراد کی تلاش روک دی گئی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

افغان سینئر عہدیدار کے مطابق افغان حکومت نے زلزلے کے ملبے سے بچ جانے والے شہریوں کی تلاش کا سلسلہ روک دیا ہے۔ افغان حکام کے مطابق زلزلے سے بچ جانے والے شہریوں کو ادویات اور دیگر ضروری امداد کی فوری ضرورت ہے۔

افغانستان کی وزارت ڈیزاسٹر مینجمنٹ کے ترجمان محمد نسیم حقانی نے عالمی خبر رساں ایجنسی 'رائیٹرز' سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ پاکستان کی سرحد کے ساتھ پکتیکا کے صوبے میں 2000 افراد زخمی ہوئے ہیں اور دس ہزار گھر جزوی یا مکمل طور پر تباہ ہو چکے ہیں۔

حقانی کے مطابق "ہمارا سرچ آپریشن روک دیا گیا ہے، ابھی تک 1000 افراد لقمہ اجل بن گئے ہیں جبکہ دو ہزار افراد زخمی ہوگئے ہیں۔ ان میں شدید زخمی افراد بھی شامل ہیں۔"

افغانستان میں دارالحکومت کابل سے 160 کلومیٹر دور 6٫1 شدت کا زلزلہ آیا جس کے نتیجے میں پکتیکا صوبے میں سب سے زیادہ تباہی دیکھنے میں آئی۔

اقوام متحدہ کے افغانستان کے لیے نائب مندوب خصوصی رمیض ال اکبروف نے بتایا ہے کہ علاقے میں کم از کم دو ہزار مکانات منہدم ہو گئے ہیں جہاں ایک اندازے کے مطابق ہر گھر میں اوسطاً سات سے آٹھ لوگ رہائش پذیر ہوتے ہیں۔

پہاڑوں میں گھرے دیہاتوں سے زلزلے کے نتیجے میں ہونے والے نقصانات کی اطلاعات خاصی تاخیر سے سامنے آ رہی ہیں۔ سڑکیں جن کی خراب حالت کے سبب اچھے دنوں میں سفر دشوار ہوتا تھا، اب مکنہ طور پر لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے مزید توڑ پھوڑ کا شکار ہو گئی ہوں گی۔

زلزلے کے جھٹکے پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد سمیت کوہاٹ، مالاکنڈ، سوات، بونیر اور دیگر شہروں میں بھی محسوس کیے گئے ہیں۔ تاہم پاکستان سے فوری طور پر ہلاکتوں اور مالی نقصان کی کوئی معلومات نہیں آئیں۔

پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے افغانستان میں زلزلے میں ہونے والے جانی و مالی نقصان پر افسوس کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ پاکستان کے متعلقہ ادارے مشکل وقت میں افغانستان کی امداد کے لیے کام کر رہے ہیں۔

واضح رہے کہ افغانستان میں 2002 میں چھ اعشاریہ ایک شدت کے زلزلے کے نتیجے میں ایک ہزار افراد جاں بحق ہوئے تھے جب کہ اسی شدت کا زلزلہ 1998 میں بھی آیا تھا جس کے نتیجے میں کم از کم 4500 افراد جاں بحق ہوئے تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں