ایران میں مخلوط مجلس کے انعقاد پر دس افراد گرفتار

گرفتاری کی بڑی وجہ بلا حجاب نو عمر لڑکیوں کا مخلوط تقریب میں شریک ہونا اور اس کی ویڈیو بنانا قرار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

قانون نافذ کرنے والے ایرانی اداروں نے نو عمر لڑکیوں اور نو عمر لڑکوں کے ایک عوامی تقریب میں اکٹھے ہونے اور ویڈیو بنانے پر ایکشن لیتے ہوئے تقریب سے متعلقہ دس افرد کو حراست میں لے لیا ہے۔ ان افراد کے حراست میں لیے جانے کی بنیادی وجہ نو عمر لڑکیوں کا بغیر حجاب کیے ہوئے ننگے سر مخلوط تقریب کا حصہ بننا بتایا گیا ہے۔

واضح رہے ایرانی انقلاب کے بعد جب سے وہاں مذہبی حکومت قائم ہے خواتین پر یہ پابندی ہے کہ وہ بغیر حجاب کے باہر نہیں آ سکتی ہیں۔ جبکہ جمعرات کے روز شیراز کے علاقے میں ایک پبلک پروگرام میں نو عمر لڑکیوں نے ایک مخلوط پروگرام میں ننگے سر شرکت کی اور مخلوط ماحول کی ویڈیو بنا کر شئیر کر دی۔

شیراز کے گورنر لطف اللہ شیبانی نے اس واقعے کے بارے میں بتایا ہے کہ جیسے ہی ان کے علم میں آیا کہ ا اس طرح کی ایک ویڈیو سامنے آئی ہے تو انہوں نے عدالت اور قانون سے متعلقہ ذمہ داروں کی مدد سے مخلوط تقریب کا انعقاد کرنے والوں کے خلاف کارروائی کا کہہ دیا۔ جس کے نتیجے میں دس افراد کو گرفتار کر لیا گیا۔

اس سے پہلے ان افراد کی شناخت کے لیے ضروری اقدامات کیے گئے اور معلوم کیا گیا کہ یہ کون لوگ ہیں۔ اب ان زیر حراست افراد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی آگے بڑھ سکے گی۔ تاہم گورنر شیراز نے یہ نہیں بتایا ہے کہ ان زیر حراست للیے گئے لوگوں میں سب مرد ہی شامل ہیں یا ان نو عمر لڑکیوں میں سے بھی کوئی شامل ہے جنہوں کی قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے سروں پر حجاب نہیں لے رکھا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں