.

شہریوں کو اسلحہ لے کر چلنے سے متعلق عدالتی فیصلے پر جو بائیڈن برہم

امریکی سپریم کورٹ نے شہریوں کو اسلحہ لے کر چلنے کے حق میں فیصلہ سنا دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی صدر جو بائیڈن نے ایک بیان میں کہا کہ وہ سپریم کورٹ کے اس فیصلے سے ''شدید مایوس ہوئے ہیں جس میں امریکی سپریم کورٹ نے نیویارک کے ریاستی قانون کو کالعدم قرار دیتے ہوئے شہریوں کو عوامی مقامات پر بھی اسلحہ لے کر چلنے کی اجازت دے ہے۔

اس فیصلے کے بعد امریکی سینیٹروں نے گن کنٹرول کے حوالے سے ایک معتدل قانون منظور کر لیا۔

مذکورہ فیصلہ جو بائیڈن کے مطابق ''عقل اور آئین، دونوں سے متصادم ہے، اور ہم سب کو اس پر شدید تشویش ہونی چاہیئے''۔

انہوں نے ریاستوں پر اس حوالے سے نئے قوانین منظور کرانے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ''میں ملک بھر کے امریکیوں سے مطالبہ کرتا ہوں کہ وہ گن سیفٹی کے لیے اپنی آواز بلند کریں کیونکہ زندگیاں داؤ پر لگی ہیں۔''

کہا جاتا ہے کہ امریکی آبادی کی تقریباً ایک چوتھائی اس فیصلے سے متاثر ہو گی کیونکہ اسی طرح کے قوانین متعدد دیگر ریاستوں میں بھی موجود ہیں۔

ادھر کیلفورنیا کے گورنر نے بھی اس فیصلے کو "عاقبت نااندیش'' قرار دیا اور اپنی ریاست میں ایک نیا قانون لانے کا وعدہ کیا۔

نیو یارک شہر کے میئر ایرک ایڈمز نے کہا کہ وہ عام شہریوں کی اسلحے تک رسائی کو محدود کرنے کے دیگر طریقوں کا جائزہ لیں گے، جیسے کہ اسلحہ خریدنے کے لیے درخواست کے عمل کو سخت کرنا اور بعض مقامات پر پابندی کو مدنظر رکھنا۔ ان کا کہنا تھا کہ"ہم نیویارک کو ' وائلڈ ویسٹ' بننے کی اجازت نہیں دے سکتے۔"

ٹیکساس، نیویارک اور کیلفورنیا میں فائرنگ کے بڑے واقعات کے بعد امریکی کانگریس بندوق کے استعمال کے حوالے سے ایک قانون پر غور کر رہی ہے۔ سنیٹروں نے جمعرات کی شام کو اس سلسلے میں 33 کے مقابلے میں 65 ووٹوں سے اس بل کو منظوری دے دی۔ امید ہے کہ ایوان نمائندگان میں بھی یہ بل پاس ہو جائے گا۔

خیال رہے کہ امریکہ میں 390 ملین سے زیادہ بندوقیں قانونی طور پر عام شہریوں کی ملکیت میں ہیں۔ صرف سن 2020 میں، 45000 سے زائد امریکی، اسلحے کے استعمال سے متعلق واقعات میں ہلاک ہوئے، جن میں قتل اور خودکشی شامل ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں