’اتفاق سے جب میں اپنے جرمن استاد سے ملا تو جذبات پرقابو نہ رکھ سکا ‘

سعودی ڈاکٹر اور اس کے جرمن استاد میں ملاقات کا جذباتی منظر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

استاد اور شاگرد کا بے لوث رشتہ ہمیشہ قائم رہتا ہے۔ زندگی کے کسی موڑ پراگران میں ملاقات ہو تو ان کے جذبات قابل دید ہوتے ہیں۔

سعودی عرب کے ایک ڈٓاکٹر جنہوں نے کچھ عرصہ جرمنی میں میڈیکل کی تعلیم حاصل کی تھی جہاں ان کا تعلق ایک جرمن ڈاکٹر سے ہوگیا تھا۔ دونوں کے درمیان تعلق مزید گہرا ہوگیا۔ سعودی ڈاکٹر محمد الزھرانی تعلیم حاصل کرکے وطن واپس آگئے۔ وطن واپسی کے بعد بھی دونوں کے درمیان رابطہ قائم رہا مگر ایک حادثے کی وجہ سے دونوں کے درمیان کئی سال تک رابطہ منقطع ہوگیا۔

10 سال سے زائد عرصے کے بعد اتفاق سے لیپروسکوپک سرجری کے کنسلٹنٹ سعودی ڈاکٹرمحمد الزھرانی اور ان کے جرمن استاد لیپروسکوپک سرجن ڈاکٹر نوربٹ رانکل کے درمیان عسیر کے علاقے میں ملاقات ہوئی۔ یہ اتفاقیہ ان دونوں کے درمیان جذباتی منظر میں تبدیل ہوگئی۔

’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘ سے بات کرتے ہوئے ڈاکٹر الزہرانی نے بتایا کہ انہوں نے سنہ 2013ء میں جرمنی کے سوارسوالڈ اسپتال میں اسکالرشپ کی مدت کے دوران اپنے استاد کے ساتھ ہونے والی ملاقات کو احسان واپس کرنے کا بہترین موقع قرار دیا۔

خوشی کے آنسو

ایک سوال کے جواب میں سعودی ڈاکٹر محمد الزھرانی نے بتایا کہ ان کے جرمن استاد کافی عرصہ علیل تھے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے ساتھ میرا رابطہ نہیں ہوسکا۔ برسوں کے وقفے کے بعد ہونے والی ملاقات میں میری آنکھوں سے بے ساختہ آنسو چھلک پڑے۔

اُنہوں نے کہا کہ ہماری ملاقات اتفاقیہ تھی مگر جرمن استاد صحت یاب ہونے کے بعد عسیر کے دورے پر آئے۔ انہوں نے مجھے تلاش کرلیا۔ وہ اپنے شاگرد سے جو ایک سال ان سے تعلیم حاصل کرچکا تھا سے ملنا چاہتے تھے۔

الزہرانی نے وضاحت کی کہ میں اس وقت مملکت میں جنرل سرجن کے طور پر خدمات انجام دے رہا ہوں۔ مُجھےسنہ 2013 میں لیپروسکوپک سرجری میں مہارت حاصل کرنے کے لیے جرمنی بھیجا گیا تھا۔

خاص خاندانی لمحات

ڈاکٹر الزھرانی نے کہا کہ منفرد خاندانی لمحات نے انہیں اکٹھا کردیا۔ ڈاکٹر رانکل میرے رویے، اخلاق اور رمضان میں 19 گھنٹے تک بغیر تھکاوٹ روزہ رکھنے کو سراہتے تھے۔

اُنہوں نے بتایا کہ جرمنی میں پڑھائی کے دوران میں ڈاکٹر رانکل سے ملنے ان کے گھر گیا۔ ان کے گھر والوں سے واقفیت حاصل کی اور سعودی عرب واپسی کے بعد بھی ان کے درمیان رابطے ہوتے رہے، لیکن ڈاکٹر کوحادثہ پیش آیا اور ان سے رابطہ منقطع ہوگیا۔اُنہوں نے موبائل نمبر تبدیل کردیا تھا۔ اس لیے رابطہ نہ رہ سکا۔

اُنہوں نے مزید کہا کہ اتفاق سے 70 سالہ ڈاکٹر عسیر آئے۔ وہ سعودی جرمن اسپتال کے مشاورتی دورے پر اس علاقے میں آئےتھے، جہاں انہوں نے میرا اتا پتا پوچھا۔

انہوں نے نشاندہی کی کہ رانکل کو وہ تمام تفصیلات اب بھی یاد ہیں جنہوں نے اسکالرشپ کی مدت کے دوران انہیں اکٹھا کیا۔ انہیں اس رشتے پر فخر ہے۔

ڈاکٹرالزہرانی نے کہا کہ میں جرمن ڈاکٹر کی قابلیت کو فراموش نہیں کر سکتا۔ وہ ایک ماہر سرجن ہیں اور میں ان سے فون پر گاہے بہ گاہے استفادہ کرتا رہوں گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں