سعودی تائیکوانڈو ٹیم نے عظیم ایشیائی مقابلے میں 3 تمغے اپنے نام کر لیے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سعودی عرب کی خواتین کھلاڑی عالمی سطح پر اپنی کامیابیوں کے جھنڈے گاڑ کر ملک وقوم کا نام روشن کررہی ہیں۔

مملکت کی تائیکوانڈو چیمپیئن دنیا ابو طالب نے جُمعہ کو جنوبی کوریا کے شہر چنچون میں شروع ہونے والی 25 ویں ایشین تائیکوانڈو چیمپئن شپ میں 53 کلوگرام وزن کی کیٹیگری میں کھیل کی تاریخ کا پہلا کانسی کا تمغہ جیت لیا۔

راؤنڈ آف 16 میں دنیا ابو طالب نے تاجکستان کو پیچھے چھوڑ دیا اور کوارٹر فائنل میں سنگاپور کو شکست دی، لیکن راؤنڈ آف فور میں پہلے نمبر پر آنے والی ازبکستان کی کھلاڑی سے ہار گئیں۔

کھلاڑی فہد السمیح نے 54 ویٹ کیٹیگری میں تیسری پوزیشن اور کانسی کا تمغہ حاصل کیا۔ راؤنڈ 16 کے لیے کوالیفائی کرنے کے بعد اس نے کوارٹر فائنل میں جاپانی کھلاڑی کو شکست دے کر جب کہ سیمی فائنل میں اس نے سابق عالمی چیمپیئن کوریائی کھلاڑی شکست سے دوچار کیا۔

کھلاڑی علی المدلی نے ساتویں ایشین پومسی چیمپئن شپ کے پہلے دن کے مقابلوں میں 50 سال سے کم عمر کے انفرادی زمرے کے البومسی مقابلوں میں تیسری پوزیشن اور کانسی کا تمغہ حاصل کرکے سعودی ٹیم کے تمغوں کا آغاز کیا تھا۔

سعودی ٹیم البومسی مقابلے میں تمغوں کی پیداوار میں اضافہ کرنے میں کامیاب رہی لیکن کھلاڑی محمد العباس اور جعفر المصطفیٰ کے کرونا وائرس کے انفیکشن نے کوریا میں ٹیم کے ساتھ موجودگی کے باوجود انہیں مقابلہ کرنے سے روک دیا۔

سعودی ٹیم مشن اور فیڈریشن کے سربراہ بریگیڈیئر جنرل شداد العمری نے سعودی قیادت کو مبارکباد دی۔ ان کا کہنا تھا کہ اعلیٰ پوزیشن حاصل کرنا ممکن تھا لیکن کچھ کے کرونا وائرس کےحالات کی وجہ سے کھلاڑی فائنل میں نہ پہنچ پائے۔اس کے باوجود ان کی کارکردگی تسلی بخش تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں