افغانستان وطالبان

طالبان کا افغانستان میں تباہ کن زلزلے کے بعد مغرب سےمنجمد فنڈز جاری کرنے کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

افغانستان کی طالبان انتظامیہ نے ہفتے کے روز بین الاقوامی حکومتوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ تباہ کن زلزلے کے بعد ان کے ملک پرعاید پابندیاں ختم کریں اورملک کے مرکزی بینک کے منجمد اثاثوں کو جاری کریں۔

بدھ کو افغانستان میں آنے والے زلزلے کے نتیجے میں ایک ہزارسے زیادہ افراد ہلاک اور ہزاروں بے گھر ہو گئے تھے۔ ریختراسکیل پر6.1 کی شدت کے زلزلے سے 10 ہزار سے زیادہ گھرتباہ ہوگئے ہیں اور قریباً 2 ہزار افراد زخمی ہوئے ہیں جس سے ملک کے زبوں حال صحت کے نظام پرمزیددباؤ پڑا ہے اورمتاثرین کی بحالی حکمران طالبان کے لیے بھی یہ ایک بڑا امتحان ہے۔

افغان وزارتِ خارجہ کے ترجمان عبدالقاہربلخی نے رائٹرز کو ایک انٹرویو میں بتایا کہ اسلامی امارت دنیا سے مطالبہ کررہی ہے کہ وہ افغانوں کو ان کا بنیادی حق دے۔وہ افغانستان کے خلاف عاید کردہ پابندیاں کواٹھائے،ہمارے ضبط شدہ اثاثوں کو غیرمنجمد کرے اورزلزلے سے متاثرین کے لیے امداد مہیا کرے۔

افغانستان میں بیرون ملک سے انسانی امداد کا سلسلہ جاری ہے لیکن اگست 2021 میں جب طالبان نے غیرملکی افواج کے انخلاء کے بعد اقتدارپرقبضہ کیا تھا تو ملک کے طویل مدتی ترقی کے لیے درکار فنڈز روک لیے گئے تھے۔اس کے علاوہ سخت گیرگروپ کی انتظامیہ کو بین الاقوامی حکومتوں نے ابھی تک باضابطہ طور پرتسلیم بھی نہیں کیا ہے جس کی وجہ سے اس کو گوناگوں مشکلات درپیش ہیں۔

افغان مرکزی بینک کے اربوں امریکی ڈالر بیرون ملک منجمد ہیں اوراس کے بینک کاری کے شعبے پر پابندیوں کے پیش نظربیرون ملک سے رقوم کی منتقلی بھی ایک مسئلہ بنی ہوئی ہے جبکہ مغربی ممالک طالبان پرانسانی حقوق پر رعایتیں دینے کے لیے زور دے رہے ہیں۔

مغربی حکومتیں خاص طور پر طالبان کے دورِحکومت میں خواتین اور لڑکیوں کے کام اور تعلیم حاصل کرنے کے حقوق کے بارے میں فکرمند ہیں۔ مارچ میں طالبان نے لڑکیوں کے ہائی اسکول کھولنے سے روک دیا تھا۔

اس معاملے کے بارے میں پوچھے جانے پربلخی نے کہا کہ افغانوں کی زندگی بچانے والے فنڈز تک رسائی کا حق ترجیح ہونا چاہیے۔انھوں نے کہا کہ عالمی برادری انسانی حقوق سے متعلق خدشات کو مختلف طریقے سے نمٹتی ہے اور اس کا انحصارزیربحث ملک سے ہوتا ہے۔

انھوں نے سوال کیا کہ کیا یہ قاعدہ آفاقی ہے؟ کیونکہ امریکا نے ابھی اسقاط حمل کے خلاف قانون منظورکیا ہے۔انھوں نے جمعہ کے روز امریکی سپریم کورٹ کے تاریخی فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا۔ جین رو بنام واڈے کے اس کیس کے فیصلے میں ایک عورت کے اسقاط حمل کے حق کو تسلیم کیا گیا ہے۔

انھوں نے سوال کیا کہ دنیا کے سولہ ممالک نے مذہبی اقلیتوں خصوصاً مسلمانوں کے حقوق چھین لیے ہیں۔ کیا انھیں پابندیوں کا بھی سامنا ہے کیونکہ وہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے مرتکب ہورہے ہیں؟

وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرین جین پیئر نے ہفتے کے روز کہا کہ ’’امریکی حکومت ان (افغان مرکزی بینک کے منجمد) فنڈز کے استعمال کے بارے میں پیچیدہ سوالات پر کام کررہی ہے تاکہ یہ یقینی بنایاجاسکے کہ ان سے افغانستان کے عوام کو فائدہ پہنچے گانہ کہ طالبان کو‘‘۔انھوں نے مزید کہا کہ امریکی ادارہ برائے بین الاقوامی ترقی (افغانستان میں) انسانی تنظیموں کو مدد مہیّا کررہا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں