کمسن رقیہ کو معذوری سے بچانے کے لیے اہل شہر نے اکیس لاکھ ڈالر جمع کر لیے

دنیا کی سب سے مہنگی دوائی اب رقیہ کو بروقت مل سکے گی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

مصر کے اہم ساحلی اور تاریخی شہر سکندریہ کے رہائشی سلیمان کی کمسن بیٹی رقیہ صرف ایک سال کی عمر میں معذور بنا دینے والی اذیت ناک بیماری ''ایٹروفی ٹائپ 2 '' کا شکار ہو گئی۔ یہ مرض بچوں کو چھ ماہ کی عمر سے اٹھارہ ماہ کی عمر کے درمیان لاحق ہوسکتا ہے اور اس کا علاج دوسال کی عمر کو پہنچنے سے پہلے کرانا لازمی ہوتا ہے وگرنہ یہ مرض لاعلاج بن کر بچے کو پوری زندگی کے لیے معذور بنا سکتا ہے۔

اس مرض سے ملتا جلتا مرض ایٹروفی ٹائپ 1 ہے۔ اس کا بھی بچوں پر حملہ عمر کے اسی دورانیہ میں ہوتا ہے لیکن دو سال کی عمر تک یہ زیادہ تر بچوں کی جان لے جاتا ہے۔ رقیہ کے والد سلیمان کے بقول ان کی بیٹی کو یہ مرض ایٹروفی ٹائپ 2 ایک سال کی عمر میں لگا۔ ان کے لیے اس بیماری اور اس بیماری کی دوائی ، دونوں کا سننا بہت بڑے صدمے سے کم نہیں تھا۔

لیکن اللہ کی مدد سے اہل سکندریہ نے اس کم سن رقیہ کو اپنی بیٹی سمجھتے ہوئے بہت تھوڑے وقت میں عوامی سطح پر "فنڈ ریزنگ" کر کے اکیس لاکھ امریکی ڈالر جمع کر لیے ہیں۔ اب اس کم سن بیٹی کا علاج ممکن ہو گیا ہے اور ان شاء اللہ زندگی بھر کی معذوری سے بھی بچ سکے گی۔ اس کو معذوری سے بچانے کے لیے جس طرح پورے سکندریہ کے لوگ کھڑے ہو گئے اس سے لگتا ہے یہ لوگ کچھ بھی کر سکتے ہیں اور ان شاء اللہ کبھی رقیہ جیسی عمر کے بچوں کو ساری زندگی کے لیے کھڑے ہونے اور چلنے پھرنے سے معذور ہونے نہیں دیں گے۔ رقیہ کی عمر اس وقت ایک سال گیارہ ماہ ہے اور اسے دوائی کا استعمال کرنے میں ڈاکٹروں کے مطابق ایک ماہ باقی ہے۔

ننھی رقیہ کے علاج کے لیے عوامی سطح پر فنڈ ریزنگ کے اس کار خیر کے آغاز کے بارے میں بچی کے والد سلیمان کا کہنا ہے یہ یونیورسٹی کے طلبہ و طالبات کی طرف سے ہوا ۔ ان طلبہ و طالبات نے ڈگری مکمل ہونے کے موقع پر ایک خوبصورت تقریب کے لیے اپنے جیب خرچ سے رقم جمع کی تھی۔ لیکن اس معصوم بچی رقیہ کے علاج کے لیے فنڈ ریزنگ کا سن کر ساری جمع شدہ رقم اس بچی کے نام کر دی۔ بس پھر یوں ہوا کہ پورا شہر طلبہ و طالبات کے اس خیر خواہانہ جذبے سے لیس ہو گیا۔

شہر میں جگہ جگہ رقیہ نام کی ننھی بچی کے لیے فنڈز کی اپیل عام ہونے لگی اور فنڈز جمع ہونے لگے۔ بچی کے والدین اور فنڈریزنگ کرنے والوں کے سامنے دو چیلنج تھے۔ ایک تو یہ کہ رقیہ کو لاحق مرض کی دوائی دنیا کی سب سے مہنگی دوائی تھی۔ دوسرا چیلنج یہ تھا کہ تقریبا دو ملین امریکی ڈالر کے برابر رقم محض چند مہینوں میں جمع کرنا تھی۔ شہر کے طلبہ و طالبات کے بعد ، تاجرحضرات، شوبز انڈسٹری سے وابستہ خواتین و حضرات بھی نیکی کے اس کام میں گویا ایک دوسرے کے مقابل آگئے کہ کون زیادہ وسائل پیش کرتا ہے۔ عام گلی محلے کی خواتین اور مرد حضرات بھی اس مشن کا حصہ بن گئے۔

نتیجتا کامیابی مقدر بن گئی اور محض چند مہینوں میں اہل سکندریہ نے 21 لاکھ امریکی ڈالروں کے برابر 40 ملین مصری پاونڈز جمع کر لیے۔ اب بچی کے والد اور دوسرے اہل خانہ ہی نہیں سارے اہل سکندریہ اس کامیابی پر اس لیے بھی خوش ہیں کہ ان کا شہر صرف شہریوں کی بستی نہیں بلکہ جیتے جاگتے انسانوں کی بستی ہے۔ اہل سکندریہ رقیہ کے والدین کو اور رقیہ کے والدین اہل سکندریہ کو مبارکباد دے رہے ہیں۔

ننھی رقیہ کو لاحق ہونے والی بیماری کی دوائی Zolgensma صرف سوئیٹزر لینڈ میں تیار کی گئی ہے اور دنیا کی سب سے مہنگی دوائی ہے۔ سوئٹزر لینڈ دنیا کے خوبصورت ممالک میں سے ایک ہے جہاں دنیا کے امیر ترین لوگ اپنے ملکوں سے لائی ہوئی دولت محفوظ کرتے رہتے ہیں۔ اس لیے ایسے امیر کبیر لوگوں کے لیے یہ دوائی شاید مہنگی نہ ہو لیکن سکندریہ کے سلیمان کے لیے یہ سوچنا بھی ناممکن تھا کہ وہ اپنے اور اپنے خاندان کے جائز وسائل سے اپنی بیٹی کا علاج کر سکے اور اس کے لیے سوئٹزر لینڈ سے یہ سب سے مہنگی دوائی منگوا سکے۔ لیکن اب ان کے لیے یہ ممکن ہو گیا ہے۔ انہوں نے ایک انٹرویو میں بتایا ، قاہرہ یونیورسٹی کے طلبہ و طالبات کی مدد سے شروع ہونے والی اس فنڈ ریزنگ مہم میں ہر شعبہ زندگی کے لوگوں نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا ہے۔ اپنے ڈگری پانے کی تقریب کی خوشی قربان کر کے سکندریہ شہر کے لوگوں کو خوشی سے سرشار کر دیا ہے۔ ایسے نوجوانوں پر ہمیں فخر ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں