ایران

’حملے روکنے میں ناکامی ایرانی انٹیلی جنس چیف کی برطرفی کی وجہ بنی‘

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

دو روز قبل ایرانی پاسداران انقلاب میں انٹیلی جنس کے سربراہ حسین طائب کی برطرفی سے اٹھنے والے سوالات تھم نہیں سکے۔

برطر ہونے والے مشہور ایرانی عہدیدار حسین طائب ’عمار انٹیلی جنس ہیڈ کوارٹر‘ کے سربراہ مہدی طائب کے بھائی ہیں اور ایرانی سپریم لیڈر علی خامنہ ای کے قریبی سمجھے جاتے ہیں۔ ان کا شمار ایرانی رجیم کے موجودہ دور کے اہم اور باثر عہدیداروں میں ہوتا ہے۔ ان کی برطرفی نے کئی سوالات کو جنم دیا ہے۔

حملے روکنے میں ناکامی

تاہم پاسداران انقلاب کے ایک بالواسطہ اشارے نے یہ ثابت کیا ہے کہ ایران میں حالیہ عرصے کے دوران ہونے والے حملوں، اہم افسران کے قتل اور حساس جوہری تنصیبات پر حملے روکنے میں ناکامی حسن طائب کی برطرفی کی وجہ بنی ہے۔

ایران انٹرنیشنل نیٹ ورک نے ہفتے کے روز بتایا کہ پاسداران انقلاب کے ماتحت خبر رساں اداروں ’تسنیم‘ اور ’فارس‘ نے کہا کہ انٹیلی جنس چیف کو تبدیل کرنے کا مقصد اسرائیل کے خلاف اقدامات کو سخت کرنا ہے۔

انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ اس قدم کا مقصد انٹیلی جنس ادارے کی تنظیم نو کرنا ہے۔ حسن طائب کو ان کے عہدے سے ہٹایا گیا ہے مگر وہ پاسداران انقلاب کے کمانڈر ان چیف کے مشیر کے طورپر خدمات انجام دیں گے۔

تبدیلی کا وقت آگیا

ادھرایرانی پارلیمنٹ میں قومی سلامتی کمیٹی کے نائب سربراہ محمد جواد جمالی نوبندکانی نے طائب کی برطرفی پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ "دشمن کا رویہ تشویشناک حد تک جارحانہ ہوتا جا رہا تھا اور متعلقہ حکام نے اس تبدیلی کا فیصلہ کیا"۔ ان کا اشارہ حسین طائب کی ناکامی کی جانب تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ حالیہ واقعات نے یہ ثابت کیا ہے کہ ریاستی انٹیلی جنس اداروں کے ڈھانچے میں تبدیلی کا وقت آگیا ہے۔

تہران کے انکار کے باوجود ترکی میں اسرائیلیوں کو نشانہ بنانے والے ایک ایرانی سیل کی گرفتاری نے معاملات کو مزید خراب کر دیا۔

مشتبہ ٹارگٹ کلنگ

قابل ذکر ہے کہ طائب کی برطرفی ایران میں گذشتہ ہفتوں اور مہینوں کے دوران جوہری مقامات اور تنصیبات پر پُراسرار حملوں کے علاوہ فوجی جوہری افسران اور سائنسدانوں کے متعدد مشتبہ قتل کے بعد عمل میں آئی ہے۔

ان حملوں میں شاید سب سے زیادہ نمایاں وہ حملے ہیں جن میں ایرانی میزائل پروگرام اور ڈرون پروگرام پر کام کرنے والے افسران کو نشانہ بنایا گیا تھا۔

اہم عہدیداروں کے قتل کے واقعات میں نمایاں واقعہ 22 مئی کو تہران کے مشرق میں کرنل حسن صیاد خدائی کا قتل ہے۔ انہیں ان کی رہائش گاہ کے باہر نامعلوم مسلح افراد نے گولیاں مار کر شدید زخمی کردیا تھا۔

ایرانی حکام نے اسرائیل پر ان واقعات میں ملوث ہونے کا الزام عائد کرتے ہوئے جوابی کارروائی کا عزم کیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں