حائل کی چٹانوں پر ثمودی دور کے عربی گھوڑے کے چٹانی خاکے اور نوشتے دریافت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سعودی عرب میں راک ڈرائنگ اور نوشتہ جات کے ایک محقق نے مملکت کے علاقے حائل میں عربی گھوڑے کی ایک راک ڈرائنگ کی موجودگی کا انکشاف کیا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ حائل کے ایک پہاڑی علاقے میں صدیوں پہلے چٹانوں پر عربی نسل کے گھوڑوں کے خاکے بنائے گئے ہیں۔ ان خاکوں سے پتا چلتا ہے کہ سیکڑوں سال قبل بھی اس خطے کی عرب آبادی گھوڑوں سے بے پناہ محبت کرتی تھی۔ یہ خاکے اس وقت کے لوگوں کے گھوڑوں سے محبت کی عکاسی کرتے ہیں۔

سعودی محقق احمد النغیثر نے ’العربیہ’ چینل کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ یہ تصویر حائل کے علاقے کے پہاڑوں میں سے ایک پہاڑ کی ہے جسے کوہ عرنان کہا جاتا۔ یہ علاقہ اپنی قدیم عربی شاعری کے لیے مشہور ہے۔

اس جگہ کو صدیوں پرانے لوگوں کی گھوڑوں سے محبت کی وجہ سےعالمی ثقافتی ورثے میں شامل کیا گیا ہے۔

محقق نے وضاحت کی کہ 2015 میں حائل کے علاقوں راطا، المنجور اور جبہ میں ایسے ہی نقوش دریافت ہوئے تھے۔ اس علاقے میں دریافت ہونے والی یہ چوتھی جگہ ہے۔ سعودی عرب میں وزارت سیاحت کی طرف سے اس علاقوں کو سیاحوں کی اہم منزل قرار دیا ہے۔ اس سے قبل وبرم، الين، قورماني اور أوتنج جیسے اہم مقامات سیاحت کے لیے کھولے گئے۔

انہوں نے جبل عرمان کی چٹانوں پر موجود ایک خاکہ ایک مضبوط جوان گھوڑے کا ہے جس پر ثمودی زبان میں ایک تحریر بھی موجود ہے۔ ماضی میں اس جگہ کے قریب سے ثمودی دور کی باقیات دریافت ہو چکی ہیں جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ خاکہ بھی ثمودی دور کا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں