سعودی خلائی کمیشن اور ہواوے کے اشتراک سے سعودی عرب میں پہلے ٹیکنالوجی مرکزکاآغاز

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سعودی خلائی کمیشن اور چین کی بڑی ٹیکنالوجی فرم ہواوے نے مملکت میں فیوچراسپیس کے نام سے پہلے ٹیکنالوجی تجربہ مرکزکا افتتاح کردیا ہے۔

ہواوے نے ایک بیان میں کہا کہ فیوچراسپیس چین سے باہر سب سے بڑا نمائشی مرکز ہے،اس میں تھری ڈی پرنٹنگ، خود کارڈرائیونگ اور برین ویو روبوٹ کنٹرول جیسی جدید ٹیکنالوجیز شامل ہوں گی۔

سعودی عرب میں اپنی نوعیت کی پہلی نمائش فیوچراسپیس کا مقصد نوجوان جدت پسندوں کو بولنے کے مواقع فراہم کرنا ہے-اس کا بڑامقصد ملک کی ڈیجیٹل تبدیلی میں مدد کے لیے اپنے مقامی ٹیلنٹ کی صلاحیتوں کو نکھارنا، پروان چڑھانا اور جدید ترین ٹیکنالوجی سے استفادے کے لیے مملکت کی کوششوں کوآگے بڑھانا ہے۔

ہواوے سعودی عرب کے چیف ایگزیکٹوآفیسر(سی ای او) ایرک یانگ نے افتتاح کے موقع پرکہا کہ ہم یہاں ہواوے میں اس بات میں یقین رکھتے ہیں کہ مستقبل کی پیشین گوئی کرنے کا بہترین طریقہ اسے خود تخلیق کرنا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ہمیں سعودی عرب میں فیوچراسپیس شروع کرنے اور سعودی عرب کے وژن 2030 کے حصے کے طور پرمملکت کے ڈیجیٹل عزائم کے حصول میں مدد دینے کا اعزازحاصل ہے۔اب تخیّلات اس بات کا تعیّن کریں گے کہ ہم مستقبل میں کس حد تک جاسکتے ہیں؛ کارروائی اس بات کا تعین کرے گی کہ ہم کتنی جلدی وہاں پہنچتے ہیں‘‘۔

یہ مرکزعوام کے لیے کھلا رہے گا اور اندازہ ہے کہ اگلے پانچ سال کے دوران میں قریباً دو لاکھ زائرین اس کو دیکھنے کے لیے آئیں گے۔

سعودی خلائی کمیشن کے سی ای او ڈاکٹرمحمد التمیمی نے اس موقع پرکہا کہ فیوچراسپیس دنیا کے جدید ترین ٹیکنالوجی تجربے کے مراکز میں سے ایک ہے۔ہم نوجوانوں کو جدید ترین ٹیکنالوجیوں سے متعارف کرنا چاہتے ہیں اورانھیں نئے طریقوں سے ٹیکنالوجی کا تصور کرنے کی ترغیب دینا چاہتے ہیں۔

الریاض میں چین کے سفیر وی کنگ چن کا کہنا تھا کہ سعودی عرب اورچین کے درمیان تعلقات سے دونوں ممالک کو بے پایاں فوائد حاصل ہوئے ہیں۔جب سعودی عرب اپنے تزویراتی قومی اہداف کے حصے کے طور پر ڈیجیٹل تبدیلی پر عمل پیرا ہے تو ہواوے اور سرکاری ایجنسیوں جیسی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے درمیان سرکاری اور نجی سطح پر شراکت داری مقامی تکنیکی ماحولیاتی نظام میں نئی قدر کا اضافہ کرتی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں