روس اور یوکرین

امریکا یوکرین کودرمیانے اورطویل فاصلے کےکون سے فضائی دفاعی نظام مہیّاکرے گا؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

یوکرین کے صدرولودی میرزیلنسکی نے امریکا سے ایسے اضافی فضائی دفاعی نظام حاصل کرنے کی خواہش کا اظہار کیا ہے جو’’روسی میزائلوں کوفضا ہی میں ناکارہ بنا سکتے یامارگرا سکتے ہوں‘‘۔

وائٹ ہاؤس کے قومی سلامتی کے مشیرجیک سلیوان نے پیر کو یوکرینی صدر کے اس مطالبے کا انکشاف کیا ہے اور کہا ہے کہ امریکا یوکرین کومہیا کرنے کے لیے ہتھیاروں کے نئےپیکج کو حتمی شکل دینے میں مصروف ہے۔اس میں ’’درمیانے اور طویل فاصلے تک مار کرنے والی فضائی دفاعی صلاحیتیں‘‘شامل ہوں گی۔

سلیوان نے جرمنی میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جیسا کہ صدر بائیڈن نے گروپ سات کے اپنی ساتھی رہ نماؤں کو بتایا اورانھوں نے صدر زیلنسکی کو بھی آگاہ کیا کہ ہم ایک پیکج کو حتمی شکل دینے کا ارادہ رکھتے ہیں۔اس میں یوکرین کے لیے اعلیٰ درمیانے اور طویل فاصلے تک مار کرنے والی فضائی دفاعی صلاحیتیں شامل ہیں۔اس کے ساتھ ساتھ فوری ضرورت کا کچھ دیگر دفاعی سامان بھی مہیا کیا جائے گا۔ان میں توپ خانے اور کاؤنٹر بیٹری ریڈار سسٹم کے لیے گولہ بارود بھی شامل ہے۔

امریکی صدر جو بائیڈن نے گذشتہ جمعرات کو ہتھیاروں کے ایک اور پیکج کا اعلان کیا تھا۔اس میں ہائی موبیلٹی آرٹلری راکٹ سسٹم (ہیمارس) اور گولہ بارود شامل ہیں۔ یوکرینیوں کو سمندر میں گشت کے لیے کشتیاں بھی دی جائیں گی۔ان کے بارے میں وائٹ ہاؤس کا کہنا تھا کہ اس سے کیف کو اپنی ساحلی پٹی کے دفاع میں مدد ملے گی۔

جی سیون کے رہنماؤں اور یوکرین کے صدر ولودی میر زیلنسکی کے درمیان ملاقات کے دوران میں جیک سلیوان نے کہاکہ یوکرین کی جانب سے مزید فضائی دفاعی نظام کی درخواست کی گئی ہے۔ انھوں نے خاص طور پردارالحکومت کیف اور یوکرین کے دیگر شہروں میں ہونے والے میزائل حملوں کے توڑ کے لیے فضائی دفاعی صلاحیتیں حاصل کرنے کی خواہش تھی تاکہ روسی میزائلوں کو فضا ہی میں مار گرایا جاسکے۔

امریکا کی طرف سے یوکرین کو اسلحہ مہیا کرنے کا یہ تیرھواں اعلان ہے۔24 فروری سے اب تک امریکا نے یوکرین کو 6 ارب ڈالر سے زیادہ کا دفاعی سامان اور امدادی اشیاء مہیا کی ہیں۔

گذشتہ جمعہ کو ایک سینیر امریکی دفاعی عہدہ دار نے صحافیوں کو بتایا کہ روس نے یوکرین کوفوجی امداد کی ترسیل روکنے کی کوشش کی ہے لیکن ہتھیاروں کو روکنے میں روس کی کسی کامیابی کا کوئی ثبوت نہیں دیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں