بی جے پی رہنمائوں کی توہین رسالت منظر عام پر لانے والا بھارتی صحافی گرفتار

محمد زبیر کو بھارتی پولیس نے 2018 کی ایک ٹوئٹ میں مذہبی جذبات مجروح کرنے کے الزام میں گرفتار کیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

بھارتی دارالحکومت نئی دہلی کی مقامی پولیس نے بی جے پی رہنمائوں کی جانب سے اہانت رسول ﷺ پر مبنی بیانات کو دنیا کے سامنے لانے والے صحافی محمد زبیر کو 2018 کی ایک ٹوئٹ کی بنیاد پر گرفتار کر لیا ہے۔

پولیس کے مطابق زبیر کو ایک 'مذہب کے دیوتا' کے بارے میں ہرزہ سرائی کرنے پر گرفتار کیا گیا ہے۔ پولیس عہدیدار کے مطابق ایک ٹوئٹر صارف کی شکایت پر زبیر کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے اور انہیں ایک دن کے ریمانڈ پر جیل میں رکھا جائے گا۔

بھارت میں فیکٹ چیکنگ ویب سائٹ 'آلٹ نیوز' کے شریک بانی محمد زبیر نے رواں ماہ بھارت کی حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی [بی جےپی] کی مرکزی ترجمان نوپور شرما اور ان کے ماتحت نوین کمار جندل کی جانب سے اہانت رسول ﷺ پر مبنی بیانات کو اپنے پلیٹ فارم کے ذریعے سے عالمی سطح پر اجاگر کیا تھا۔ اس سے مسلمانوں میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی تھی۔پارٹی کی ترجمان نوپورشرما نے ٹیلی ویژن مباحثے میں اور سوشل میڈیا پر جماعت کی دہلی شاخ کے ترجمان نے ناپسندیدہ اور توہین آمیز تبصرے کیے تھے۔

بی جے پی نے ان دونوں کی بنیادی رُکنیت معطل کر دی ہےاور کہا کہ اس نے کسی بھی مذہب کی توہین کی مذمت کی ہے اور پولیس نے بھی ان دونوں کے خلاف مقدمات درج کیے ہیں لیکن ان کی شرانگیزی اور اسلاموفوبیا کا شکار انتہاپسند ہندوؤں کی کارروائیوں کے خلاف مشتعل مسلمان سراپا احتجاج بنے ہوئے ہیں جبکہ ردعمل میں ان کے مکانات تک مسمار کیے جارہے ہیں اور ان کی پکڑ دھکڑ جاری ہے۔

بھارتی پولیس نے متعدد ریاستوں میں بدامنی کے شُبے میں کم سے کم چار سو مظاہرین کو گرفتار کیا ہے۔حکام نے بہت سے شہروں میں کرفیو نافذ کر دیا ہےاور کچھ مقامات پر انٹرنیٹ سروسز بھی معطل کر دی گئی ہیں۔

واضح رہے کہ 2014ء میں نریندر مودی کے برسر اقتدار آنے کے بعد سے بھارت میں مسلمانوں کے خلاف تشدد آمیز ظالمانہ کارروائیوں میں اضافہ ہوا ہے اورہندو قوم پرست مسلمانوں کو ان کے مذہب کی بنا پر معاندانہ کارروائیوں کا نشانہ بنا رہے ہیں لیکن ان کے خلاف حالیہ انتقامی کارروائیوں نے سابقہ تمام ریکارڈ توڑ دیے ہیں۔ ماضی میں محض احتجاج کی پاداش میں لوگوں کے گھر مسمار نہیں کیے جاتے تھے لیکن اب کہ سکیورٹی فورسز اور ہندو قوم پرست احتجاجی مظاہروں میں پیش پیش افراد کے مکانات کو منہدم کر رہے ہیں اور کھلے عام کیمرے کی آنکھ کے سامنے انھیں تشدد کا نشانہ بنا رہے ہیں۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ وزیراعظم مودی کی بی جے پی نے تصادم کی راہ اختیار کی ہے اور اس خیال کو فروغ دیا ہے کہ ہندوستان 'ہندو قوم' کا وطن ہے اورباقی سب لوگ "ملک دشمن" ہیں۔ بہت سے مسلمان ان کی کارروائیوں کو خود کو دیوار سے لگانے کی کوشش کے طور پر دیکھتے ہیں۔ مسلمان بھارت کی ایک ارب سے زیادہ آبادی کا 13 فی صد ہیں۔

شمالی ریاست اترپردیش میں حکام نے مظاہروں کے خلاف ردعمل میں متعدد مسلم مردوں اور خواتین کے گھروں کو مسمار کردیا۔آئینی ماہرین اور انسانی حقوق کے گروپوں نے بی جے پی کی قیادت میں ریاستی حکومت کی اس کارروائی کی مذمت کی ہے۔ انھوں نے آباد گھروں کے انہدام کو احتجاج کی سزا قرار دیا ہے لیکن ریاستی حکام نے اس کارروائی کا یہ جواز پیش کیا ہے کہ وہ غیر قانونی طور پر سرکاری زمین پر تعمیر کیے گئے تھے۔

وزیراعظم نریندر مودی نے اب تک اپنی جماعت کے لیڈروں کی ہرزہ سرائی اور اسلام مخالف تبصروں پر کوئی بیان جاری نہیں کیا ہے حالانکہ بیرون ملک ان کی شدید مذمت کی گئی ہے۔ بھارت کے اہم تجارتی شراکت دار قطر، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، عمان اور ایران سمیت بہت سے ممالک نے بھارت کو سفارتی سطح پر احتجاج ریکارڈ کرایا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں