امریکا:سپریم کورٹ سے سکولوں اور سرکاری عمارات میں نماز پڑھنے کی اجازت مل گئی

امریکی آئین مذہبی آزادی اور اقدار کا حامی ہے۔ نو میں سے تین امریکی ججوں نے مخالفت کی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

امریکی سپریم کورٹ نے مسلمان ملازمین کو اجازت دے دی ہے کہ وہ سکولوں اور سرکاری عمارات میں نماز ادا کر سکتے ہیں۔ امریکی سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ سکولوں اور دیگر سرکاری جگہوں پر نماز ادا کرنے پر پابندی لگانا امریکی آئین کے خلاف ہے۔

سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق '' آئین ملازمین اور کارکنوں کی مذہبی اقدار کی پاسداری کرتا ہے۔ " امریکی سپریم کورٹ کے ججوں نے ایک مرتبہ پھر آئین کی اس ترمیم کی تشریح کر دی ہے جس کا کارکنوں کے مذہبی عقیدے اور ان کے کام کی جگہوں سے تعلق ہے۔

امریکہ کے وفاقی جج حضرات کے اس فیصلے میں چھ ججوں نے مسلمانوں کے اس حق کو تسلیم کیا ہے اور آئینی تقاضا بتایا ہے جبکہ تین ججوں نے اس کی مخالفت کی ہے۔ خیال رہے کہ یہ مسئلہ کچھ عرصہ قبل واشنگٹن کے ایک سکول میں ایک فٹ بال کوچ کی نوکری سے اس بنیاد پر برطرفی سے پیدا ہوا تھا کہ اس نے مسلمانوں کو نماز کی ادائیگی کی اجازت دی تھی۔

بعد ازاں جوزف کینیڈی نامی اس کوچ نے عدالت میں ملازمت سے اس برطرفی کو چیلنج کیا تھا ور موقف اختیار کیا کہ اس کا مسلمانوں کو نماز کی اجازت دینے کا فیصلہ امریکی آئین اور مذہبی اقدار کے مطابق تھا ، اس لیے اسے جرم قرار دے کے کر اسی ملازمت ختم کرنا غلط ہے۔'

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں