امریکا نیٹواتحادی ترکی کو ایف 16 لڑاکا طیاروں کی فروخت پرآمادہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

ترکی کی جانب سے فن لینڈ اورسویڈن کی نیٹو میں شمولیت کا راستہ صاف کرنے کے 24 گھنٹے سے بھی کم عرصے میں پینٹاگون کی ایک سینیر عہدہ دار نے کہا ہے کہ امریکا نیٹو کی سلامتی کے لیے تعاون کے ضمن میں ترکی کو ایف 16 لڑاکا طیاروں کی فروخت پرآمادہ ہے۔

محکمہ دفاع کی سینیرعہدہ دار نے بدھ کے روزبتایا کہ امریکا ترکی کے لیے ایف 16 لڑاکا طیاروں کی جدید کاری کے معاہدے کی حمایت کرتا ہے۔

واضح رہے کہ امریکا نے ترکی کو ایف 35 لڑاکا طیاروں کی تیاری کے پروگرام سے خارج کردیا تھا کیونکہ اس نے روسی ساختہ ایس 400 میزائل دفاعی نظام خرید کرنے کے معاہدے سے دستبردار ہونے سے انکارکردیا تھا لیکن اب ایسا لگتا ہے کہ انقرہ نے فن لینڈ اورسویڈن کی نیٹو میں شمولیت کی کوشش کی مخالفت ختم کرنے کے عوض امریکا سمیت عالمی برادری سے بعض رعایتیں حاصل کی ہیں۔

امریکی حکام نے گذشتہ 24 گھنٹے کے دوران میں کہا ہے کہ ترک صدررجب طیب ایردوآن اورامریکی صدر جو بائیڈن کے درمیان کوئی معاہدہ نہیں ہوا ہے۔البتہ امریکا اورترکی کے درمیان لڑاکا طیاروں کے تنازع کو طے کرنے کے لیے گذشتہ کئی ماہ سے بات چیت جاری ہے۔

سویڈن اورفن لینڈ کے بارے میں نیٹومعاہدے کے بعد امریکا کی اسسٹنٹ سیکرٹری برائے دفاع اور بین الاقوامی سلامتی امور سیلیسٹی والنڈر نے صحافیوں کے ساتھ بات چیت میں کہا کہ محکمہ دفاع اپنے ایف 16 بحری بیڑے کے لیے ترکی کے جدید کاری کے منصوبوں کی مکمل حمایت کرتا ہے۔

والنڈر نے بتایا کہ ’’یہ منصوبے کام کررہے ہیں۔اس طرح کے منصوبوں پر’’ہمارے معاہدے کے عمل‘‘ کے ذریعے کام کرنے کی ضرورت ہوگی‘‘۔ان سے ترکی کو ایف 16 لڑاکا طیاروں کی فروخت کے بارے میں امریکی موقف سے متعلق پوچھا گیا تھا۔

والنڈر نے مزید کہا:’’امریکا ترکی کے لڑاکا بحری بیڑے کی جدید کاری کی حمایت کرتا ہے کیونکہ یہ نیٹو کی سلامتی کے علاوہ خود امریکی سلامتی میں بھی ایک تعاون ہے‘‘۔

ان کا کہنا تھا کہ کہ ترکی ایک ’’انتہائی قابل، تزویراتی نیٹو اتحادی‘‘ہے اور اس کی مضبوط دفاعی صلاحیتیں نیٹو کی مضبوط دفاعی صلاحیتوں میں معاون ہیں۔

بتایا گیا ہے کہ ترکی نے اب ایف 35 پروگرام کا حصہ نہ بننے کے عوض ایک اور معاہدہ کیا ہے۔اس کے تحت وہ امریکا سے نئے ایف 16 خریدے گا جبکہ اپنے موجودہ 80 پرانے ایف 16 طیاروں کے بیڑے کو اپ گریڈ کرے گاکیونکہ فی الوقت انھیں جدیدکاری کی اشد ضرورت ہے۔

کانگریس نے ابھی اس معاہدے کی منظوری دینا ہے۔البتہ بائیڈن انتظامیہ نے اشارہ دیا ہے کہ وہ اس کومنظورکرنے کو تیار ہے۔

دریں اثناء امریکی محکمہ خارجہ کے ایک اعلیٰ عہدہ دارنے العربیہ انگلش سے اس حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ نیٹوکے لیے یہ یقینی بنانا انتہائی ضروری ہے کہ ترکی مکمل طورپرفضائی صلاحیتوں کا مظاہرہ کرے۔عہدہ دارنے اپنا نام ظاہرنہ کرنے کی شرط پر کہا کہ ترکی کو اپنے جنگی طیاروں کے موجودہ بیڑے کو(نیٹو کے لیے) اپ گریڈ کرنے کی اشد ضرورت ہے۔

اس عہدہ دار کے مطابق اگر امریکا مخصوص ٹیکنالوجی مہیا کرتا ہے توترکی کے ایف 16لڑاکا طیاروں کے موجودہ بیڑے کی عمرمیں ’’قریباً پانچ سے 10 سال‘‘کی توسیع ہوسکے گی۔یہ اب ترکی پر منحصر ہے کہ وہ کیا فیصلہ کرتا ہے اور وہ روس سے خرید کردہ ایس 400 فضائی دفاعی نظام کو یوکرین کوفروخت کرسکتا ہے۔اگرچہ اس کا امکان نہیں لیکن عہدہ دار نے نشان دہی کی کہ اگرایسا ہوتا ہے تو اس سے کانگریس کی طرف سے یقینی طور پر مثبت ردعمل دیکھنے کو ملے گا۔

ترکی کو معاہدہ شمالی اوقیانوس کی تنظیم نیٹو کا اہم اتحادی سمجھا جاتا ہے اوراس کی جغرافیائی،تزویراتی اہمیت نے رکن ممالک کواسے خوش کرنے کے طریقوں پرغور کرنے پر مجبور کیا ہے جبکہ وہ اظہاررائے کی آزادی کے خلاف کریک ڈاؤن جاری رکھے ہوئے ہے اور اس نے روس سے ایسے ہتھیار خریدکیے ہیں جن کی نیٹو کے دفاعی نظام کے ساتھ کوئی مطابقت نہیں بلکہ انھیں تنظیم کے لیے خطرناک سمجھاجاتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں