ترکی اپنا مطالبہ پوراہونے پرفن لینڈ اورسویڈن کی نیٹو میں شمولیت کی حمایت پرآمادہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

ترکی فن لینڈ اور سویڈن کی معاہدہ شمالی اوقیانوس کی تنظیم نیٹو کی رکنیت کی حمایت پر رضامند ہو گیا ہے۔اس کا کہنا ہے کہ اسے دونوں نارڈک ممالک کے ساتھ مذاکرات سے’’وہ مل گیا ہے جو وہ چاہتا تھا‘‘۔

فن لینڈ کے صدر ساؤلی نینیسٹو نے منگل کے روز کہا ہے کہ ترکی نے یہ فیصلہ صدر رجب طیب ایردوآن کی ان کے اور سویڈش وزیراعظم میگڈالینا اینڈرسن کے ساتھ ملاقات کے بعد کیا ہے۔نیٹو کے سیکرٹری جنرل جینزاسٹولٹن برگ نے اس ملاقات کے لیے سہولت کار کا کردار ادا کیا ہے۔

نینیسٹو نے ایک بیان میں کہا کہ اس ملاقات کے نتیجے میں ہمارے وزرائے خارجہ نے سہ فریقی یادداشت پر دست خط کیے ہیں جس سے اس بات کی تصدیق ہوتی ہے کہ ترکی رواں ہفتے میڈرڈ سربراہ اجلاس میں فن لینڈ اور سویڈن کو نیٹو کا رکن بننے کی دعوت کی حمایت کرے گا۔

انھوں نے مزید کہا کہ نیٹو میں ہماری شمولیت کے ٹھوس اقدامات پر تنظیم کے رکن ممالک کی جانب سے اگلے دو روز کے دوران میں اتفاق کیا جائے گا لیکن اب یہ فیصلہ قریب ہے۔

ان کے بہ قول طے پانے والی مفاہمت کی یادداشت تینوں ممالک کے اس عزم کی نشان دہی کرتی ہے کہ وہ ’’ایک دوسرے کی سلامتی کولاحق خطرات کے خلاف اپنی مکمل حمایت کریں گے‘‘۔

سویڈن اورفن لینڈ نیٹو کی رکنیت کے ذریعے اپنی سلامتی بڑھانے کے خواہاں ہیں۔یوکرین پر روس کے حملے کے تناظرمیں ان کی رکنیت کی درخواست نے فوجی اتحاد میں گذشتہ کئی دہائیوں سے کسی نئے ملک کی شمولیت کی روایت کا بھی خاتمہ کیا ہے۔

ترکی نے مئی میں اعلان کیا تھا کہ اسے دونوں ممالک کی نیٹو میں شمولیت پر اعتراضات ہیں۔اس نے ان پر کرد عسکریت پسندوں یعنی کردستان ورکرز پارٹی (پی کے کے) کی حمایت کرنے کا الزام لگایا تھا۔

ترکی اس جماعت کو دہشت گرد تنظیم سمجھتا ہے اوردونوں نارڈک ممالک مبیّنہ طور پراپنے یہاں موجود درجنوں مشتبہ’’دہشت گردوں‘‘کو اس کے حوالے کرنے میں ناکام رہے ہیں۔خاص طور پر امریکا کے مقیم مذہبی رہ نما فتح اللہ گولن کے پیروکار کو ترکی کے حوالے نہیں کیا گیا، جن پر انقرہ نے 2016 میں حکومت مخالف بغاوت کی کوشش میں ملوث ہونے کا الزام لگایا تھا۔

دریں اثناء سرکاری خبر رساں ادارے اناطولو کی رپورٹ کے مطابق ترک مواصلات ڈائریکٹوریٹ نے ایک بیان میں کہا کہ ’’فن لینڈ اور سویڈن نے پی کے کے اور اس سے وابستہ اداروں کے خلاف جنگ میں ترکی کے ساتھ مکمل تعاون پراتفاق کیا ہے اورملک کو وہ مل گیا،جو وہ چاہتا تھا‘‘۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں