شام نے یوکرین سے الگ ہونے والی دوجمہوریاؤں کو خودمختارتسلیم کرلیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

روس کے اتحادی شام نے یوکرین سے علاحدہ ہونے والی دو مشرقی جمہوریاؤں کی آزادی کو تسلیم کرنے کا اعلان کردیا ہے اور وہ ان کی خودمختاری کو تسلیم کرنے والا روس کے بعد دوسرا ملک بن گیا ہے۔

روس نے فروری میں دونیتسک اورلوہانسک کو الگ ریاستوں کے طور پرتسلیم کیا تھا۔ یہ دونوں روس کے حملے کے مرکزعلاقے دونبس میں واقع ہیں اور 2014 سے کیف کے کنٹرول سے باہرہیں۔

شام کی وزارت خارجہ کے ایک ذریعے نے سرکاری خبر رساں ادارے سانا کو بتایا کہ شامی عرب جمہوریہ نے لوہانسک عوامی جمہوریہ اوردونیتسک عوامی جمہوریہ دونوں کی آزادی اور خودمختاری کو تسلیم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

اس ذریعے نے بتایا کہ ہم دونوں ممالک کے ساتھ تعلقات کو مستحکم کرنے کے فریم ورک پراتفاق کریں گے جس میں طے شدہ قواعد کے مطابق سفارتی تعلقات قائم کرنا بھی شامل ہے۔

رواں ماہ کے اوائل میں شامی صدر بشارالاسد نے روسی وفد اوردونیتسک جمہوریہ کے نمائندوں سے ملاقات کی تھی۔انھوں نے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ دمشق دونیتسک کے ساتھ سیاسی تعلقات شروع کرنے کوتیار ہے۔

یہ پہلا موقع نہیں جب شامی حکومت، جسے 2015 سے روس کی بھاری فوجی اور سیاسی حمایت حاصل ہے، ماسکو کی جانب سے یوکرین سے علاحدہ ہونے والی ریاستوں کو تسلیم کرنے کا اعلان کیا ہے۔

اس سے قبل شام نے 2018ء میں جنوبی اوسیشیا اور ابخازیہ کو سابق سوویت ریاست جارجیا سے آزاد تسلیم کیا تھاجس کے نتیجے میں تبلیسی نے دمشق سے سفارتی تعلقات منقطع کرلیے تھے۔

ابخازیہ اورجنوبی اوسیشیا کو بین الاقوامی سطح پر جارجیا کا حصہ تسلیم کیا جاتا ہے لیکن روس او دیگرمٹھی بھر ممالک ان دونوں کی آزادی کو تسلیم کرتے ہیں۔عیسائی اکثریتی جارجیا نے 1991 میں سوویت یونین سے آزادی حاصل کی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں