نازی جرمن اذیتی کیمپ کے سابق محافظ کو پانچ سال سزائے قید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
6 منٹس read

جرمنی میں نازی دور کے ایک سابقہ اذیتی کیمپ کے اب 101 سالہ سابق محافظ کو پانچ سال کی سزائے قید سنا دی گئی۔ ملزم یوزیف شُؤٹس جتنا عرصہ اس اذیتی کیمپ کا گارڈ تھا، اس دوران وہاں ساڑھے تین ہزار سے زائد قیدی ہلاک کیے گئے تھے۔

جرمنی میں دوسری عالمی جنگ کے دوران نازی حکمرانوں اور ان کے دور میں کام کرنے والے سرکاری ملازمین کے خلاف مقدمات میں سے اس مقدمے کو اس لیے خصوصی اہمیت حاصل تھی کہ ملزم یوزیف شُؤٹس آج تک کا وہ سب سے عمر رسیدہ ترین مل‍زم ہے، جسے اپنے خلاف ہولوکاسٹ سے جڑے قتل عام کے واقعات سے متعلق الزامات کا سامنا تھا۔

یہ سابقہ نازی کیمپ گارڈ 1942ء سے لے کر 1945ء تک کے عرصے میں برلن کے شمال میں واقع اورانیئن بُرگ نامی مقام پر قائم زاکسن ہاؤزن اذیتی کیمپ کا محافظ رہا تھا، جہاں اسی عرصے میں 3,518 قیدیوں کو ہلاک کر دیا گیا تھا۔

’’میں بے قصور ہوں‘‘

یوزیف شُؤٹس ایک پینشنر ہے، جس کی عمر اس وقت 101برس ہے اور وہ برلن کے ہمسایہ وفاقی جرمن صوبے برانڈن بُرگ میں رہتا ہے۔ اس پر ساڑھے تین ہزار سے زائد انسانوں کے قتل میں معاونت کا الزام تھا۔ اس مقدمے میں عدالت نے اسے آج منگل 28 جون کے روز پانچ سال قید کی سزا سنائی۔

مقدمے کی سماعت کے دوران ملزم نے دعویٰ کیا تھا کہ وہ بے قصور ہے اور ان نے 'قطعاﹰ کچھ بھی نہیں‘ کیا تھا۔ یوزیف شُؤٹس نے عدالت کو بتایا تھا کہ اسے زاکسن ہاؤزن کے اذیتی کیمپ کے گارڈ کے طور پر اپنی ملازمت کے عرصے میں کبھی یہ علم نہیں ہو سکا تھا کہ وہاں انسانوں کے قتل عام کی صورت میں خوفناک جرائم کا ارتکاب کیا جاتا رہا تھا۔

استغاثہ کا الزام

ملزم کے دعووں کے برعکس استغاثہ کا اصرار تھا کہ یوزیف شُؤٹس کو اچھی طرح جانتا تھا کہ 1940ء کی دہائی کے پہلے نصف حصے میں زاکسن ہاؤزن کے نازی اذیتی کیمپ میں کیا کچھ ہوتا رہا تھا۔

استغاثہ کے مطابق ملزم نے 'جانتے بوجھتے ہوئے اور دانستہ‘ وہاں کیے جانے والے جرائم میں حصہ لیا اور اسی لیے بہت ضعیف العمری کی وجہ سے اسے کم از کم بھی پانچ سال کی سزائے قید سنائی جانا چاہیے تھی۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں ملزم کو اس کے خلاف لگائے گئے الزامات میں قصور وار قرار دیا اور اسے استغاثہ کے حسب مطالبہ پانچ سال قید کی سزا سنا دی۔

نازی دور میں قائم کیے گئے اذیتی کیمپوں میں سے زاکسن ہاؤزن کا اذیتی کیمپ 1936ء میں قائم کیا گیا تھا، جہاں 1945ء تک مجموعی طور پر دو لاکھ سے زائد قیدیوں کو رکھا گیا تھا۔ ان میں سے بہت بڑی اکثریت یہودیوں کی تھی۔ تاہم یہودیوں کے علاوہ وہاں لائے جانے والے اور بعد ازاں زیادہ تر ہلاک کر دیے جانے والے قیدیوں میں روما اور سنتی نسل کے یورپی خانہ بدوش باشندے، نازی حکومت کے مخالفین اور بہت سے ہم جنس پرست افراد بھی شامل تھے۔

زاکسن ہاؤزن میموریل اور میوزیم کے اعداد وشمار کے مطابق اس نازی کیمپ کو 1945ء میں سابق سوویت یونین کے فوجی دستوں نے آزاد کرایا تھا۔ تب تک لیکن جبری مشقت، قتل عام، خوفناک قسم کے طبی تجربات، بھوک اور بیماریوں کے باعث اس کیمپ کے دو لاکھ سے زائد قیدیوں میں سے بیسیوں ہزار ہلاک ہو چکے تھے۔

زاکسن ہاؤزن کے نازی اذیتی کیمپ میں ان بہت سی بھٹیوں میں سے دو کی باقیات، جن میں ہلاک ہونے والے قیدیوں کی لاشیں اجتماعی طور پر جلا دی جاتی تھیں۔

ملزم یوزیف شُؤٹس پر لگائے گئے الزامات میں یہ الزام بھی شامل تھا کہ اس نے 1942ء میں اس کیمپ میں نازی فوجیوں کی طرف سے لائے گئے سابق سوویت یونین کے فوجیوں کی قیدیوں کے طور پر فائرنگ اسکواڈ کے ہاتھوں ہلاکت میں عملی مدد بھی کی تھی۔

اس کے علاوہ ملزم اسی کیمپ کے قیدیوں کو ہلاک کرنے کے لیے اس زہریلی گیس کے استعمال میں بھی شامل رہا تھا، جو 'سائیکلون بی‘ کہلاتی تھی اور جس کے ذریعے ہر بار سینکڑوں کی تعداد میں قیدیوں کو گیس چیمبرز میں بھر کر ہلاک کر دیا جاتا تھا۔

کیمپ کے گارڈ کے طور پر جس وقت ملزم ان تمام جرائم کا مرتکب ہوا، تب اس کی عمر 21 برس تھی۔

نازی نیم فوجی دستے ’ایس اے‘ کی قیادت میں یہودی مخالف شہریوں کا مجمع جرمنی کی سڑکوں پر نکلا۔ مشرقی جرمن شہر کیمنٹس کی اس یہودی عبادت گاہ کی طرح دیگر علاقوں میں بھی یہودیوں کی املاک پر حملے کیے گئے۔ اندازے کے مطابق صرف ایک رات میں یہودیوں کے زیر ملکیت کم ازکم ساڑھے سات ہزار کاروباری مراکز کو نقصان پہنچایا گیا اور سامان لوٹا گیا۔

دوسری عالمی جنگ کے آخری مہینوں میں جب زاکسن ہاؤزن کا اذیتی کیمپ آزاد کرایا گیا، تو سوویت یونین کے دستوں نے ملزم شُؤٹس کو روس کی ایک جیل میں منتقل کر دیا تھا۔ اس جیل سے رہائی کے بعد جب وہ واپس جرمنی آیا، تو اس نے پہلے ایک کسان اور پھر ایک لوہار کے طور پر کام کرنا شروع کر دیا تھا۔

یوزیف شُؤٹس کے خلاف اس مقدمے کی سماعت 2021ء میں شروع ہوئی تھی۔ عدالتی کارروائی کے عرصے میں وہ قید میں رکھے جانے کے بجائے آزاد ہی رہا تھا۔ اس مقدمے کی کارروائی کئی مرتبہ ملزم کی خراب صحت کی بنیاد پر ملتوی بھی کرنا پڑی تھی۔

شُؤٹس کو اگرچہ اب سزائے قید سنا دی گئی ہے، تاہم اس کی عمر اور خراب صحت کی وجہ سے یہ امکان بہت کم ہے کہ اسے یہ سزا کاٹنے کے لیے واقعی جیل بھی بھیج دیا جائے۔

ملزم کے وکیل صفائی کے مطابق یوزیف شُؤٹس اس عدالتی فیصلے کے خلاف اپیل دائر کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں