'جب بیٹے موجود ہیں تو ماؤں اور بیٹیوں کا جرگے میں کیا کام؟'

طالبان کے قومی جرگے میں خواتین کی نمائندگی بھی مرد ہی کریں گے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

افغانستان میں طالبان حکومت کی دعوت پر ’لویا جرگہ‘ ہو رہا ہے مگر اس جرگے کی ایک اہم بات یہ ہے کہ اس میں خواتین کی نمائندگی شامل نہیں کی گئی۔ طالبان کے نائب وزیراعظم ملا عبدالسلام حنفی نے بتایا ہے کہ یہ ایک ملک گیر قومی اجتماع ہے جس میں تمام طبقات کے نمائندے شرکت کریں گے۔

طالبان حکومت کی دعوت پر ہونے والے اس ملک گیر اجتماع میں علما، قبائلی عمائدین اور طالبان کے حامی رہ نما شرکت کر رہے ہیں۔ جرگے میں ملک کو درپیش مسائل پر بحث کی جائے گی مگر خواتین کو نظر انداز کیا گیا ہے۔

انہوں نے افغان براڈکاسٹنگ کارپوریشن (آر ٹی اے) کو بتایا کہ یہ اجتماع گذشتہ اگست میں تحریک کے اقتدار پر قبضے کے بعد سے اپنی نوعیت کا پہلا جرگہ ہوگا جو کل جمعرات کو شروع ہوگا۔

اُنہوں نے واضح کیا کہ اس میں افغانستان کے استحکام اور قومی اتحاد کی مضبوطی کے لیے ایک مثبت قدم میں مختلف لوگوں اور مختلف آراء کو شامل کیا جائے گا۔

خواتین کی طرف سے مرد

جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا خواتین اجتماع میں شرکت کریں گی تو انہوں نے کہا کہ مرد شرکاء خواتین کی نمائندگی کریں گے۔

اُنہوں نےاس کا جواز پیش کیا خواتین ہماری مائیں بہنیں ہیں اور ہم ان کی بہت عزت کرتے ہیں۔ جب ان کے بیٹے اجتماع میں شریک ہوتے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ وہ بھی اجتماع میں کسی نہ کسی انداز میں شریک ہوتی ہیں۔

'قانونیت کا فقدان'

تاہم سول سوسائٹی کی تنظیموں کا خیال ہے کہ اگر کوئی خاتون شرکت نہیں کرتی ہیں تو اس اجلاس کو قانونی حیثیت حاصل نہیں ہوگی۔

ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ یہ جرگہ کس موضوع پر بات کرے گا؟ اس میں لڑکیوں کی ثانوی تعلیم کا مسئلہ اٹھایا جائے گا۔ اس میں تقریباً تین ہزار شرکاء کے شامل ہونے کی امید ہے۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ گذشتہ موسم گرما میں طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد سے اس نے بتدریج خواتین کی آزادیوں اور حقوق کو سلب کر دیا ہے اور صنفی امتیاز کے مظاہر دیکھے جانے کی اطلاعات ہیں۔

طالبات کو تعلیم سے بھی محروم کر دیا گیا ہے جو کہ ان کے اسکول کی طرف رجحان کو کنٹرول کرنے والے نئے قوانین کے نفاذ کے التوا میں تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں