.

فلم کی شوٹنگ کے مقام پرمسلح افراد کا دھاوا،8 خواتین کا ریپ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پولیس نے جمعہ کی شام کو بتایا کہ مسلح افراد نے جنوبی افریقا کے ایک چھوٹے سے قصبے کے قریب فلم کی عکس بندی کی جگہ پر دھاوا بولا اور فلم بندی میں حصہ لینے والی آٹھ نوجوان خواتین کی عصمت دری کی۔

جنوبی افریقی پولیس کے وزیر بیکی سیلی نے کہا کہ جوہانسبرگ کے مغرب میں کروگرسڈورپ کے مضافات میں جمعرات کے حملے کے تناظر میں اب تک تقریباً 20 مشتبہ افراد میں سے تین کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔

انہوں نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ گینگ نے ورک ٹیم پر اس وقت حملہ کیا جب اس کے ارکان فلم بندی شروع کرنے کے لیے ساز و سامان اور سجاوٹ کی تیاری کر رہے تھے۔

انہوں نے نشاندہی کی کہ جن نوجوان خواتین پر حملہ کیا گیا ان کی عمریں 18 سے 35 سال کے درمیان تھیں۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ ان میں سے ایک کو دس مردوں نے زیادتی کا نشانہ بنایا جبکہ ایک خاتون کو آٹھ مردوں مبینہ طور پر گینگ ریپ کا نشانہ بنایا۔

ورک ٹیم کے مردوں پر بھی حملہ کیا گیا۔ ان کے کپڑے اور سامان چھین لیا گیا۔

سیلی نے صحافیوں کو بتایا کہ "ایسا لگتا ہے کہ مشتبہ افراد غیر ملکی ہیں، خاص طور پر غیر قانونی کان کن ہوسکتے ہیں"۔

جنوبی افریقا کے صدر سیرل رامافوسا نے اسی کانفرنس میں اعلان کیا کہ انہوں نے پولیس وزیر کو حکم دیا ہے کہ "اس جرم کے مرتکب افراد کی گرفتاری کو یقینی بنایا جائے۔"

اوسطاً، جنوبی افریقا کی پولیس کو ہر 12 منٹ میں عصمت دری کی رپورٹ موصول ہوتی ہے۔ اس بڑی تعداد کے باوجود ملک میں عصمت دری کے بہت سے واقعات رپورٹ نہیں ہوتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں