اسرائیل کا حزب اللہ پر لبنان کے ساتھ سرحد کی حد بندی میں رکاوٹ ڈالنے کا الزام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

کل اتوار کو اسرائیل نے حزب اللہ پر لبنان کے ساتھ سمندری سرحد کی حد بندی کی کوششوں میں رکاوٹ ڈالنے کا الزام لگایا ہے۔

یہ الزام اتوار کو بیروت پہنچنے والے امریکی ثالث آموس ہوچسٹین کی اسرائیل کے ساتھ سمندری سرحدوں کی حد بندی کی فائل پر بات کرنے کے لیے لبنانی حکام سے ملاقات کے بعد سامنے آیا ہے۔ امریکی ثالثی کی ان کوششوں کا ابھی تک کوئی نتیجہ نہیں نکل سکا ہے۔

نئی پیش رفت

پچھلے مہینے کے آغاز میں کریش گیلڈ فیلڈ کے قریب آنے والے ایک بحری جہاز کے واقعے کے بعد لبنان اور اسرائیل کے درمیان سمندری سرحد کی حد بندی کے معاملے سے متعلق پیشرفت میں تعطل کے بعد دو طرفہ الزامات میں تیزی آئی ہے۔ اس مقام پر اسرائیل کا ایک بحری جہاز داخل ہوا جس پر لبنان نے یہ کہہ کر احتجاج کیا کہ کریش ایک متنازع مقام ہے جس میں اسرائیل کی مداخلت کا کوئی جواز نہیں۔

ہوچسٹین نے اپنے دورے کا آغاز پبلک سکیورٹی کے ڈائریکٹر جنرل عباس ابراہیم، وزیر توانائی ولید فیاض اور آرمی کمانڈر جوزف عون سے ملاقات سے کیا اور پیر کو وہ صدر میشل عون اور نگراں وزیراعظم نجیب میکاتی سے ملاقات کریں گے۔

مذاکرات میں سہولت کاری

امریکی محکمہ خارجہ نے اتوار کو ایک بیان میں اعلان کیا کہ ہوچسٹین کا دورہ امریکی انتظامیہ کے مذاکرات میں سہولت فراہم کرنے کے عزم کے دائرے میں آتا ہے۔ محکمہ خارجہ کا کہنا ہے کہ دونوں ملکوں کا کسی حل تک پہنچنا ضروری اور ممکن ہے، لیکن یہ کام صرف مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے ہی کیا جا سکتا ہے۔

لبنان اور اسرائیل کے درمیان 2020 میں امریکی ثالثی سے شروع ہونے والے مذاکرات کو متنازعہ علاقے کے رقبے پر اختلافات کے باعث گذشتہ سال مئی میں روک دیا گیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں