ایران:جاسوسی کے الزام میں بہائی عقیدے کے متعدد ارکان گرفتار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ایران کی وزارت انٹیلی جنس نے بہائی عقیدے کے متعدد ارکان کو جاسوسی کے الزام میں گرفتار کرلیا ہے۔

سرکاری ٹی وی نے سوموار کو وزارت کے ایک بیان کے حوالے سے اطلاع دی ہے کہ ملزمان کا تعلق اسرائیل کے بہائی مرکز سے ہے جہاں مذہبی گروپ کا بین الاقوامی ہیڈکوارٹر واقع ہے اور انھوں نے ایران سے معلومات اکٹھی کرکے وہاں منتقل کی تھیں۔

واضح رہے کہ سراغرسانی کی وزارت بہائی عقیدے کے ارکان کی گرفتاریوں کی شاذونادرہی اطلاع دیتی ہے۔رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ کتنے لوگوں کو حراست میں لیا گیا ہے۔ سرکاری ٹی وی کی فوٹیج میں ایک ملزم کو یہ کہتے ہوئے دکھایا گیا ہے کہ وزارت کے ایجنٹ اس کی نگرانی کر رہے تھے۔

ان گرفتاریوں پربہائی مذہب کے پیروکاروں کے خلاف ممکنہ کریک ڈاؤن کے بارے میں خدشات پیداہوگئے ہیں۔ایران میں اس عقیدے کے ارکان حکام کی کبھی کبھار بدسلوکی اور قانونی چارہ جوئی کی شکایت کرتے رہتے ہیں۔

ایران پہلے ہی بہائی مذہب پر پابندی عایدکرچکا ہے۔یادرہے کہ سنہ1860 کی دہائی میں ایک فارسی رئیس بہاءاللہ نے اس مذہب کی بنیاد رکھی تھی۔انیسویں صدی سے اب تک بہت سے ایرانی بہائی فرقہ اختیار کرچکے ہیں۔

2013ء میں ایران کے رہبرِاعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای نے، جو تمام ریاستی امورمیں حتمی رائے رکھتے ہیں، ایک فتوے میں ایرانیوں پر زور دیا تھا کہ وہ کالعدم بہائی فرقے کے ارکان کے ساتھ ہرقسم کے معاملات سے گریز کریں۔ انھوں نے ماضی میں دوسرے علماء کے اسی طرح کے فتوے کی حمایت کی تھی۔

ایران میں عیسائیوں ،یہودیوں اور دوسرے غیرمسلموں کو اپنی عبادات اور مذہبی رسوم ادا کرنے کی اجازت ہے لیکن اس کے ہاں مذہب کی تبدیلی کے خلاف سخت قوانین نافذالعمل ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں