.

امریکاکی پابندیوں کے باوجود ایرانی صدررئیسی نیویارک میں جنرل اسمبلی سے خطاب کریں گے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے صدرابراہیم رئیسی اپنے خلاف امریکا کی پابندیوں کے باوجود اگلے ماہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس میں شرکت اور خطاب کے لیے نیویارک جانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

ایرانی حکومت کے ترجمان علی بہادری جہرومی نے منگل کو اپنی ہفتہ وار پریس بریفنگ میں بتایا کہ صدر کے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لیے ابتدائی منصوبہ بندی کر لی گئی ہے۔جنرل اسمبلی کا سالانہ اجلاس 13ستمبر کو نیویارک میں شروع ہوگا۔

ابراہیم رئیسی نومبر2019 سے’’انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں میں ملی بھگت‘‘کے الزام میں امریکی پابندیوں کی زد میں ہیں۔ وہ کووِڈ-19 کی وَبا کی وجہ سے گذشتہ سال جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس میں شرکت سے محروم رہے تھے۔ اس کے بجائے اجلاس میں ان کے خطاب کی پہلے سے ریکارڈ کی گئی ویڈیو چلائی گئی تھی۔

امریکا نے جب ایرانی حکام کی بلیک لسٹ میں ابراہیم رئیسی کا نام شامل کیا تو وہ اس وقت عدلیہ کے سربراہ تھے۔ وہ جون 2021ء میں ایران کے صدر منتخب ہوئے تھے۔

واشنگٹن نے ان پرالزام لگایا تھا کہ انھوں نے 1988 میں تہران کی انقلابی عدالت کے چیف پراسیکیوٹر کی حیثیت سے حراست میں لیے گئے بائیں بازو کے افراد کی بڑی تعداد کو تختہ دار پر لٹکانے میں قائدانہ کردارادا کیا تھا۔

ابراہیم رئیسی نے 2018ء اور2020ء میں دومواقع پران الزامات کی تردید کی تھی اوراس بات پراصرار کیا تھاکہ انھوں نے وسیع پیمانے پرپھانسیوں میں کوئی کردارادا نہیں کیاتھا حالانکہ انھوں نےایرانی انقلاب کے بانی آیت اللہ روح اللہ خمینی کے اس حکم کی تعریف کی تھی جس میں انھوں نے ملک کو بائیں بازو کے عناصر سے پاک کرنے کا کہاتھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں