.

پیلوسی کا متوقع دورہ تائیوان، چینی فوج اشتعال انگیز سرگرمیوں سے باز رہے: امریکا

چین کی دھمکیوں سے ڈرنے والے نہیں: امریکی عہدیدار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی حکومت نے چین کو خبردار کیا ہے کہ امریکی ایوان نمائندگان کی سپیکر نینسی پیلوسی کے متوقع دورہ تائیوان کے دوران کسی اشتعال انگیز کارروائی سے باز رہے۔

امریکا کے ایک سینیئر عہدیدار کا کہنا تھا کہ چین کی دھمکیوں کا امریکا پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ امریکا نے اب تک نینسی پیلوسی کے دورہ امریکا کی باضابطہ تصدیق نہیں کی ہے مگر میڈیا کے مطابق وہ منگل کے روز تائیوان جائیں گی۔

امریکی صدر جوبائیڈن نے نینسی پیلوسی کو تائیوان جانے کا مشورہ دیا ہے اور وائٹ ہائوس کے مطابق یہ سپیکر کا اپنا ذاتی فیصلہ ہے کہ وہ تائیوان جاتی ہیں یا نہیں۔

وائٹ ہائوس نے پیر کے روز ایک بیان میں بتایا کہ پیلوسی کو تائیوان جانے کا حق حاصل ہے۔چین کی حکومت نے عندیہ دیا تھا کہ اگر نینسی پیلوسی نے تائیوان کا رخ کیا تو ان کے جہاز کے خلاف فوجی ایکشن لیا جاسکتا ہے۔

امریکا کی نیشنل سیکیورٹی کونسل کے ترجمان جان کربی کے مطابق "متوقع دورے کو وجہ بنا کر کسی بحران یا تنازعے کو کھڑا کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔"

ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران چینی وزارت خارجہ کے ترجمان ژائو لیجیان نے بتایا کہ نینسی پیلوسی امریکا کی تیسری بڑی سیاسی شخصیت ہیں اور ان کے عہدے کی وجہ سے ان کے دورہ تائیوان کے شدید سیاسی اثرات مرتب ہوں گے۔

امریکی ایوان نمائندگان کی سپیکر نینسی پیلوسی پیر سے چار ایشیائی ممالک کے دورہ کا آغاز کر رہی ہیں جس کا پہلا پڑائو سنگاپور میں ہوگا۔

پیلوسی کے ایشیا پیسفک کے دورے میں اب تک جاپان، انڈونیشیا اور سنگاپور میں رکنے کا واضح اعلان موجود ہے، تاہم نہیں کہا جا سکتا کہ ان کا حتمی طور پر تائیوان جانے کا پروگرام کیا ہے۔ ایک ذریعے کے مطابق اس کی وجہ امریکہ اور چین کے درمیان تائیوان کے معاملے پر پائی جانے والی کشیدگی ہے۔

اگر پیلوسی تائیوان میں رکتی ہیں تو یہ گذشتہ 25 سال کے دوران کسی منتخب اور اہم امریکی شخصیت کا پہلا دورہ ہو گا۔ امریکی صدر جو بائیڈن اور چین کے صدر شی کے درمیان ایک روز قبل اسی تائیوان کے موضوع پر فون کال پر بات ہوئی مگر صدر شی نے سخت لہجہ اختیار کیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں