.

سیامی جڑواں تین سالہ بچوں نے پہلی بار ایک دوسرے کا چہرہ دیکھا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

برازیل میں ایک طبی ٹیم نے ورچوئل رئیلٹی ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے کئی کامیاب آپریشنوں کے بعد دو برازیلی جڑواں بچوں کو الگ کرنے میں کامیابی حاصل کی۔ سوموار کے روز طبی ٹیم نے اپنی کامیابی کا اعلان کیا جس میں تین سال کے دو جڑواں بچوں کو ایک دوسرے سے جدا کیا گیا۔ دونوں بچوں کا سرآپس میں جڑا ہوا تھا۔

ریو دی جنیرو (برازیل کے جنوب مشرق) کے ایک اسپتال میں اپنی زندگی کے ابتدائی سال بستر پر گزارنے کے بعد ساڑھے تین سال کی عمر کے آرتھر اور برنارڈو لیما ایک دوسرے کے چہروں کو دیکھ سکتے ہیں۔ بچوں کو الگ کرنے کے لیے سرجری کا عمل جون کے شروع کیا گیا تھا۔

جڑواں بچوں کو الگ کرنے کے آپریشن کے بعد ان کی والدہ ایڈریل لیما اپنے آنسو روک نہ سکیں اور ایک بیان میں کہاکہ "ہم چار سال تک اسپتال میں رہے۔"

آپریشن لندن میں قائم چیریٹی جیمنی اینٹ وِنڈ کی مدد کے بغیر ممکن نہیں تھا، جس نے آپریشن کو اب تک کا سب سے "پیچیدہ" طبی طریقہ کار قرار دیا ہے۔ اس کی وجہ یہ تھی دونوں کے جسم میں خون کی بہت سی شریانی جڑی ہوئی تھیں۔

پاؤلو نیمیئر نیورولوجیکل انسٹی ٹیوٹ کے نیورو سرجن گیبریل موفریج نے کہا کہ جڑواں بچوں کو الگ کرنے کا یہ آپریشن "بلا شبہ میرے کیریئر کا سب سے پیچیدہ آپریشن تھا۔"

انہوں نے مزید کہا کہ پہلے کسی نے نہیں سوچا تھا کہ دونوں بھائی آپریشن میں بچ جائیں گے۔ دونوں کا زندہ رہنا ایک تاریخی نتیجہ ہے۔ جڑواں بچے ابھی بھی ہسپتال میں ہیں، جہاں صحت کا عملہ بچوں کے مکمل تندرست ہونے تک ان کی دیکھ بھال کرے گا۔

انہوں نے کہا کہ فی الحال اس بارے میں کچھ نہیں کہہ سکتے کہ آیا بچے کس حد تک نارمل زندگی گزار سکیں گے۔

جڑواں بچوں کی کل نو سرجریاں ہوئیں جن میں سے ایک میں 7 جون کو 13 گھنٹے لگے جبکہ دوسرے دن ان کا دوسرا آپریشن 23 گھنٹے تک جاری رہا۔

میڈیکل ٹیم جس میں تقریباً 100 خصوصی افراد شامل تھے نے آپریشن سے قبل جڑواں بچوں کی جسمانی ساخت کو دوبارہ بنانے کے لیے ایک جدید ورچوئل رئیلٹی سسٹم کا استعمال کیا۔

جیمنی اینٹ وِنڈ کے برطانوی نیورو سرجن نور ال اویسی جیلانی نے کہا کہ ٹیکنالوجی کا استعمال "خلائی دور کی چیز" ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں