.
سعودی ویژن 2030

نیوم کاآکساگون سعودی ٹیلنٹ کی تلاش اورمعاونت کے لیے ’ہیکاتھون‘منعقد کرے گا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

نیوم کا شہراوکساگون جلد ہی سعودی عرب کے وژن 2030 کے مطابق’’ہیکاتھون‘‘اور’’ایکسلریٹر‘‘کا انعقاد کرے گا۔ان کا مقصدمملکت میں ایک جامع، اختراعی اور مشترکہ ماحولیاتی نظام کو فروغ دینا ہے۔

تین روزہ ’آکساگون ہیکاتھون‘ کا آغاز سعودی عرب کی وزارت تعلیم کے اشتراک سے کیا جائے گا اور یہ دارالحکومت الریاض میں 6 سے 8اکتوبر تک منعقد ہوگا۔ اس میں مملکت کی سرکاری اور نجی جامعات کے اساتذہ ، طلبہ اوردیگرماہرین شرکت کریں گے۔

ہیکاتھون کا مقصدملک میں نئے کاروبار شروع کرنے والوں کے درمیان تعاون کو فروغ دینا اور مختلف شعبوں میں جدید ترین ٹیکنالوجیز کے خصوصی ماہرین کی نگرانی میں ٹیکنالوجی، مینوفیکچرنگ اور اختراع وایجادات کے شعبے میں سعودی ٹیلنٹ کی مدد کرنا ہے تاکہ کاروباری افراد کے اختراعی خیالات کوعملی منصوبوں میں تبدیل کیا جاسکے۔

آکساگون کاہیکاتھون چاراہم شعبوں پر توجہ مرکوز کرے گا اوریہ نیوم کے صنعتی عزائم کی نمائندگی کرتے ہیں: لوگوں کی خدمت میں ٹیکنالوجی، پانی کی قلت کے چیلنجوں سے نمٹنے کے پائیدارحل تیار کرنا اورسبز ہائیڈروجن اور ای ایندھن۔یہ سب مستقبل کے لیے صاف توانائی کے متبادلات کے لیے سعودی عرب کے عزم کے مطابق ہیں۔

ہیکاتھون کے بعد رواں سال کے آخرمیں ’’ایکسلریٹر‘‘کا انقعاد کیا جائے گا۔اس کی معاونت سعودی عرب میں قائم ایک فرم بلوم ایکسلریٹر کرے گی جو خطے میں کاروباری افراد کی معاونت میں مہارت رکھتی ہے۔

ہیکاتھون کے تمام شرکاء کو چاراہم صلاحیتوں پر توجہ مرکوزکرنے کی حوصلہ افزائی کی جائے گی جوآکساگون کے لیےاہم ہیں۔ان میں بڑے ڈیٹا کا تجزیہ ،مصنوعی ذہانت (آرٹی فیشل انٹیلی جنس)، جدید سینسنگ اور انٹرنیٹ آف تھنگز (آئی او ٹی)۔ان کے علاوہ میٹریل سائنس، نینو ٹیکنالوجی اور روبوٹکس اور خودکار گائیڈڈ گاڑیاں اور ڈرون شامل ہیں۔

بارہ ہفتوں پرمحیط اس ایکسلریٹر پروگرام کو کاروباری افراد کی معاونت کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے اور یہ انھیں ابتدائی مرحلے میں اسٹارٹ اپ سپورٹ فراہم کرے گا۔اس میں علم اور وسائل سے لے کر نیٹ ورکنگ کے مواقع شامل ہیں۔اس کا مقصد انھیں اپنی کمپنیاں قائم کرنے اور سرمایہ کاروں اور وینچر سرمایہ داروں کو راغب کرنے میں مدد کرنا ہے۔

نیوم کے بیان کے مطابق سعودی یونیورسٹیوں کے درخواست دہندگان کے علاوہ مملکت بھر سے گھریلو جدت پسندوں کو بھی ہیکاتھون اور ایکسلریٹر میں شرکت کی دعوت دی جاتی ہے۔اس میں شرکت سے انھیں اختراعی حل کو قابل عمل اسٹارٹ اپ کاروبار میں تبدیل کرنے کا موقع ملے گا۔

اوکساگون ہیکاتھون کی تینوں حتمی ٹیموں کو اپنے تصورات پیش کرنے کے لیے تین ماہ کے پروگرام میں شرکت کا موقع مہیا کیا جائے گا اور انھیں صنعت کے رہنماؤں، ماہرین، سرپرستوں اور ممکنہ سرمایہ کاروں تک رسائی فراہم کی جائے گی تاکہ وہ ان کے تصورات کو مکمل طور پرپوراکرنے اور ان کے کاروبار کے آغازمیں مدد کرسکیں۔

اوکساگون کے چیف ایگزیکٹوآفیسر (سی ای او) وشال وانچو نے ایک بیان میں کہا کہ یہ منفرد شراکت داری ظاہرکرتی ہے کہ اوکساگون تعلیم کواختراعی برادریوں کے لیے سنگ بنیاد سمجھتا ہے اور ہم سعودی جامعات میں جدت طرازی اور کاروباری صلاحیتوں کو فروغ دینے کے لیے وزارت تعلیم کے ساتھ مل کر کام کرنے کے بارے میں پرجوش ہیں۔

سعودی عرب کے نائب وزیر برائے تحقیق و اختراع ناصر العقیلی نے کہا کہ ہیکاتھون اورایکسلریٹر، دونوں کے آغاز سے مستقبل کے علمبرداروں اور رہنماؤں کی ایک نسل کی قومی صلاحیتوں کو فروغ دینے اور سعودی وژن 2030 کے مطابق مملکت کے اقتصادی تنوع کے منصوبوں میں حصہ ڈالنے میں مدد ملے گی۔

انھوں نے مزیدکہاکہ آکساگون کے ساتھ ہماری شراکت داری سعودی سرکاری اورنجی جامعات کے شرکاء کواپنے اختراعی خیالات پرعمل درآمد کا موقع فراہم کرتی ہے، پائیدارحل تیارکرتی ہے جوملکی اورعالمی سطح پر صاف ستھری صنعتوں کے مستقبل کی معاونت کرتے ہیں اوراس مہارت سے اضافی فائدہ حاصل ہوتا ہے جواوکساگون پیش کرتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں