.
اوپیک پلس

عالمی مارکیٹ میں طلب کے خدشات کے پیش نظر تیل کی قیمتوں میں کمی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

تیل کی عالمی مارکیٹ میں جمعرات کو قیمتوں میں کمی واقع ہوئی ہے۔اس کا سبب امریکا اوریورپ میں معاشی کمزوری کے خدشات کے پیش نظرطلب میں کمی بتائی گئی ہے۔البتہ مارکیٹ کی جانب سے سخت سپلائی پرغور کے بعد قیمتوں میں کمی دیکھی گئی ہے۔

برینٹ کروڈ میں مستقبل کے سودے جمعرات کو 1404 جی ایم ٹی(گرینچ معیاری وقت) تک 79 سینٹ یا 0.8 فی صد کی کمی سے95.99 ڈالر فی بیرل اور ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) کے خام تیل کے سودے 43 سینٹ کمی کے ساتھ90.23 ڈالر میں ہوئے ہیں۔اس طرح قیمت میں 0.4 فی صد کی معمولی کمی ہوئی ہے۔

24فروری کویوکرین پرروس کے حملے کے بعددونوں بینچ مارکس پہلی مرتبہ بدھ کے روز اپنی کمزور ترین سطح پرآ گئے تھے اورویسٹ ٹیکساس کے سودے فروری کے وسط کے بعد جمعرات کو سب سے کم قیمت میں طے پائے تھے۔

امریکا اوریورپ میں معاشی مندی،ابھرتی ہوئی مارکیٹ، معیشتوں میں قرضوں کی پریشانی اور دنیا کے سب سے بڑے تیل درآمد کنندہ چین میں نافذالعمل سخت صفر کووڈ-19 پالیسی کے بارے میں بڑھتی ہوئی تشویش کے سبب طلب کی تصویردھندلائی ہوئی ہے۔

تیل مارکیٹ میں مزید دباؤاس خدشے کے بعد ہوا ہے کہ ملکوں میں بینکوں کی بڑھتی ہوئی شرح سود معاشی سرگرمی کو سست کرسکتی ہے اور ایندھن کی مانگ کو محدود کر سکتی ہے۔ بینک آف انگلینڈ (بی او ای) نے جمعرات کو شرح سود میں اضافہ کیا ہے اور کسادبازاری کے خطرات کے بارے میں خبردار کیا ہے۔

اوپیک پلس نے ایک روز قبل ہی ایک معاہدے کے تحت ستمبر میں اپنے پیداواری ہدف میں صرف 100,000 بیرل یومیہ اضافہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور یہ عالمی طلب کے 0.1 فی صد کے مساوی ہے۔بعض تجزیہ کاروں نے اس فیصلہ کو مارکیٹ کے لیے کوئی نیک شگون قرار نہیں دیا ہے۔

خلیج کے تیل کے بڑے برآمدکنندگان کی سوچ سے واقف ذرائع کا کہنا ہے کہ اگردنیا کو آیندہ موسم سرما میں تیل کی رسد کے شدیدبحران کا سامنا کرنا پڑتا ہے تواوپیک کے بڑے ممالک سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات تیل کی پیداوار میں ’’نمایاں اضافہ‘‘ کرنے کو تیار ہیں۔تجزیہ کاروں کو اب بھی توقع ہے کہ اوپیک پلس کی محدوداضافی صلاحیت طویل مدتی قیمتوں کی معاونت کرے گی۔

نیویارک میں قائم غیرملکی زرمبادلہ کا کاروبار کرنے والی کمپنی ’اوآنڈا‘ کے سینیرتجزیہ کار ایڈورڈ مویا کا کہنا ہے کہ خام تیل کی قیمتوں کو90 ڈالرفی بیرل کی سطح کے آس پاس مضبوط حمایت حاصل ہونی چاہیے اوربالآخرعالمی اقتصادی سست روی میں تیزی آنے کے باوجود یہ 100 ڈالرفی بیرل کی سطح کی طرف واپس چڑھ جائیں گی۔

مقبول خبریں اہم خبریں