.

تائیوان کے گرد گھیرا تنگ کرنے کے لیے چینی فوجی مشقیں قابل مذمت ہیں: بلنکن

امریکہ کی تائیوان سے متعلق پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی وزیر خارجہ انتونی بلنکن نے چین کی طرف سے تائیوان کو محاصرے میں لیتے ہوئے فوجی مشقوں کی مذمت کی ہے اور اسے نمایاں فوجی اضافے کا نام دیا ہے۔ بلنکن کے مطابق پلوسی کے دورے کے بعد تائیوان کے گردو پیش میں ان مشقوں کا کوئی جواز نہیں تھا۔ '

واضح رہے چین نے اس دورے کے بعد بلیسٹک میزائل فائر کیے ہیں اور اور جنگی طیاروں کے علاوہ بحری جنگی جہاز بھی ڈیپلائی کر کے تائیوان کے گرد گھیرا ڈال دیا ہے۔ تبحری جہازوں کی اس اہم گذر گاہ ' نو گو ایریا' بنا تے ہو خطرناک زون قرار دے دیا ہے۔

ان چینی اقدامات پر امریکی وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ یہ اشتعال انگیز اقدامات فوجی بڑھاوے کی شکل ہیں۔' وہ جنوب مشرقی ایشیائی ممالک کے وزرائے خارجہ کے درمیان مذاکرات کے بعد نوم پنہ میں گفتگو کر رہے تھے۔

ان کا کہنا تھا چین کا یہ اس ہفتے کی فوجی نقل و حرکت تائیوان کے' سٹیٹس کو ' کے خلاف تازہ کوشش ہے۔ ایک خود مختار تائیوان کے خلاف چینی کمیونسٹ پارٹی چاہتی ہے کہ تائیوان کو دوبارہ اپنے ساتھ ملانے کے لیے فوج کا استعمل کرنے سے بھی گریز نہ کیا جائے۔ '

امریکی وزیر خارجہ نے نے کہا میں نے پلوسی کے تائیوان جانے سے پہلے چینی وزیر خارجہ کو انڈونیشیا میں حالیہ ملاقات کے دوران کہہ دیا تھا کہ چین اس طرح کی حرکتیں کرے گا ، پلوسی کے دورے کے بعد چین بعینہ وہی کر رہا ہے۔ '

انہوں نے مزید کہا حقیقت یہ ہے کہ سپیکر پلوسی تائیوان کا دورہ مکمل طور پر پرامن تھا، ایک پر امن دورے کے بعد اس طرح کی فوج کشی اکا ماحول بلا جواز ہے۔' امریکہ کی تائیوان کے بارے میں پوزیشن اب بھی وہی ہے جو پہلے تھی۔ اس لیے چین کے اقدامت سے امریکہ مشتعل نہیں ہو گا۔'

مقبول خبریں اہم خبریں