.

ترکیہ:اسرائیلی اہداف کا تعاقب کرنے والوں کی کیمروں کے ذریعے نشاندہی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکیہ کے ذرائع ابلاغ کی طرف سے جاری کی گئی ایک ویڈیو میں مشتبہ ایرانی ایجنٹوں کو گذشتہ ماہ استنبول بھر میں ہوائی اڈوں، شاپنگ مالز اور ہوٹلوں پر ممکنہ اسرائیلی اہداف کا سراغ لگاتے اور ان کی فلم بندی کرتے ہوئے دیکھا گیا۔

یہ ٹیپ جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ سکیورٹی ذرائع سے حاصل کیا گیا ہے میں کئی مردوں کو اسرائیلی سیاحوں کا سراغ لگاتے اور فلماتے ہوئے بھی دکھایا گیا ہے۔ کیمروں نے مشتبہ افراد کو ہوائی اڈوں، شاپنگ سینٹرز اور ہوٹلوں پر اسرائیلیوں کی پیروی کرتے ہوئے ان کی نشاندہی کی۔ترکیہ کی پولیس نے سی سی ٹی وی کیمروں سے فوٹیج کی تحقیقات شروع کردی ہیں۔

جعلی پاسپورٹ

ترک حکام نے کئی ایسے ایرانی شہریوں کی شناخت کی ہے جو حال ہی میں ملک میں داخل ہوئے ہیں اکثر جعلی پاسپورٹ کے ساتھ اور مشکوک سرگرمیوں کے مرتکب پائے گئے ہیں۔ یہ مشکو عناصر باربار گاڑیاں بدلتے ہیں۔ایک ترک ذریعے نے بدھ کے روز اسرائیل کے چینل 12 کو بتایا کہ حکام ایسے واقعے کے بارے میں بات کر رہے ہیں جو اس سے قبل نہیں دیکھا گیا۔

بتایا جاتا ہے کہ 23 جون کو ترک پولیس نے استنبول میں اسرائیلی اہداف پر حملوں کی منصوبہ بندی کے الزام میں 5 ایرانیوں کو گرفتار کیا تھا۔

گرفتاری کی خبریں اس وقت سامنے آئیں جب تل ابیب نے استنبول میں اسرائیلیوں کو فوری طور پر وہاں سے نکل جانے کا حکم دیا تھا، جس میں انتباہ کیا گیا تھا کہ وہ ترکیہ میں ایرانی حملے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔

اسرائیلی سفارت کار اور اس کی اہلیہ

اسرائیلی میڈیا نے ترک میڈیا کے حوالے سے خبر دی ہے کہ اغوا کا نشانہ بننے والوں میں ایک سابق اسرائیلی سفارت کار اور ان کی اہلیہ بھی شامل ہیں جب کہ سفارت کار کا نام شائع نہیں کیا گیا۔

ایک ماہ بعد ترک رپورٹس نے اشارہ کیا کہ انقرہ نے استنبول میں اسرائیلیوں کو نشانہ بنانے کی ایک اور ایرانی کوشش کو ناکام بنا دیا۔ ترکیہ کی پولیس نے3 افراد کو گرفتار کیا۔ انہیں 14 جولائی کو کی جانے والی اس کارروائی میں ملزمان کے قبضے سے ایک رائفل، دو پستول، ایک سائلنسر اور گولہ بارود بھی قبضے میں لیا گیا تھا۔

اسرائیلیوں کو نشانہ بنانے کے لیے 35 ہزار ڈالرکی آفر

اطلاعات کے مطابق ان افراد نے استنبول کے تقسیم اسکوائر کے قریب ایک ہوٹل میں قیام پذیر اسرائیلی سیاحوں کو 35,000 ڈالر کے عوض نشانہ بنانے کی کوشش کی۔ اگلے دن ترکیہ کے روزنامہ الصباح نے ایک ویڈیو کلپ شائع کیا جس میں ایک شخص کو ہوٹل کے اندر کے علاقوں کو فلماتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ اس معاملے میں سیل کے 4 ارکان کو ’’آخری لمحات‘‘ میں گرفتار کیا گیا تھا۔

ایران اور اسرائیل برسوں سے حالت جنگ میں ہیں، لیکن حالیہ مہینوں میں کئی اعلیٰ سطحی پراسرار ہلاکتوں کے بعد تناؤ میں اضافہ ہوا ہے۔ اسرائیل اور ایران دونوں کشیدگی کا الزام ایک دوسرے پر عاید کرتے ہیں۔

بے بنیاد الزام

ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ 22 مئی کو تہران میں ان کے گھر پر پاسداران انقلاب کے کرنل حسن سید خدائی کے قتل کا ذمہ دار اسرائیل ہے۔ خدائی کا قتل نومبر 2020 میں ایٹمی سائنسدان محسن فخر زادہ کے قتل کے بعد ایران کے اندر سب سے زیادہ بدنام زمانہ قتل تھا، جس کا الزام تہران نے تل ابیب پر بھی لگایا تھا۔

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان سعید خطیب زادہ نے یہ بھی کہا کہ اسرائیلی الزامات کہ تہران ترکیہ میں اسرائیلیوں کو نشانہ بنا رہا ہے۔ انہوں نے ترکیہ میں اسرائیلیوں کو نشانہ بنانے کا الزام بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسرائیل ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت تکی اور ایران کے درمیان کشیدگی پھیلانے کی کوشش کررہا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں