.

ماؤنٹ ایورسٹ سر کرنے والی منال جسے راستے میں دو لاشیں بھی ملیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصری خاتون کوہ پیما منال رستم کا میڈیا میں چرچا ہوتا رہا ہے۔ وہ ماؤنٹ ایوریسٹ کی چوٹی سر کرنے والی پہلی مصری خاتون قرار دی جاتی ہیں۔

بُدھ کو انہوں نے پہلی بار میڈیا کے سامنےاپنی اس مہم جوئی کی تفصیلات کا انکشاف کیا۔ انہوں نے بتایا کہ پہاڑ چڑھتے ہوئے مُجھے دو کوہ پیماؤں کی لاشیں اس وقت ملیں جب میں ہمالیہ میں واقع پہاڑ کی تیسری چوٹی پر چڑھنے میں مصروف تھیں۔ منال رستم نے بدھ کی رات ’سی بی سی‘ مصری ٹی وی چینل کے پروگرام’معکم‘ میں میزبان منیٰ الشاذلی سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔

منال رستم نے بتایا کہ میں نے پہاڑ پرچڑھنے کی جسمانی سے زیادہ ذہنی تربیت حاصل کی۔ میں نے مراقبہ کیا کہ ’مُجھ پرکتنا مشکل وقت آئے گا اور میں برداشت کروں گی۔ میں اپنے آپ کو بتانا چاہتی ہوں کہ دُنیا تاریک ہوگی اور اس میں ہوا ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ میں نے سُنا تھا کہ کچھ کوہ پیما مہم جوئی کے دوران مارے گئے تھے۔

منال رستم کے انٹرویو کی ایک ویڈیو العربیہ ڈاٹ نیٹ کے علم سے گذری۔ انہوں نے کہا کہ کوہ پیما کو پہاڑچڑھنے سے پہلے ایک اعلامیہ پر دستخط کرنا ہوتے ہیں کہ اگر وہ مرگیا تواس کے جسم کے ساتھ کیا ہونا ہے۔ کیا وہ اسے اس کے رشتہ داروں کے پاس واپس کریں گے یا وہیں رہیں گے جہاں اس نے آخری سانس لیا تھا۔

39 سالہ منال رستم نے مرنے والوں میں سے ایک کی لاش کے پاس اپنی تصویر دکھائی اور بتایا کہ 2019 میں اس کی آکسیجن ختم ہونے کے بعد اس کی موت ہوگئی۔ وہ تھک گیا اور شدید تھکن کی حالت اس کی موت کا سبب بنی۔ پھر ویڈیو ختم ہو گئی۔

وکی پیڈیا کی معلومات اس میں 311 مردہ ایورسٹ کوہ پیماؤں کو شامل کیا گیا ہے۔ ماؤنٹ ایوریسٹ سرکرتے ہوئے جان کی بازی ہارنے والا پہلا ایک نیپالی تھا جو سات جون 1922ء کو مہم جوئی کے دوران ہلاک ہوگیا تھا۔ آخری روسی ہے جو 8 جون ہلاک ہوا۔ سال 2019ء کے دوران چھ ملکوں کے 12 کوہ پیما مہم جوئی میں ہلاک ہو گئے۔

مقبول خبریں اہم خبریں