.
یمن اور حوثی

یمن میں امریکی سفارت خانہ کےملازمین کوبدستورزیرِحراست رکھنے پرحوثیوں کی مذمت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی صدرجو بائیڈن کے یمن کے لیے خصوصی ایلچی ٹِم لینڈرکنگ نے ایران کے حمایت یافتہ حوثیوں کی معاندانہ کارروائیوں پرمذمت کی ہے اور کہاکہ انھوں نے امریکا اوراقوام متحدہ کے موجودہ اور سابق عملہ کے بارہ ارکان کو بدستور زیرحراست رکھا ہوا ہے۔

انھوں نے جمعرات کو ایک بیان میں کہا کہ یہ انتہائی بدقسمتی کی بات ہے اور ہم امریکی اور اقوام متحدہ کے عملہ کے سابقہ اور موجودہ ارکان کو حراست میں رکھنے پر حوثیوں کی مذمت کرتے ہیں۔

انھوں نے یمن میں جنگ بندی میں حالیہ توسیع کے بارے میں صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ’’امریکی ملازمین کی حراست ’’انتہائی منفی اشارہ‘‘ دیتی ہے۔ہم حوثیوں کی جانب سے ان افراد کی غیرمشروط رہائی میں نیک نیتی کا مظاہرہ دیکھنا چاہتے ہیں‘‘۔

واضح رہے کہ امریکا نے حوثی ملیشیا کی یمن کی بین الاقوامی سطح پرتسلیم شدہ حکومت کا تختہ الٹنے کی کارروائی کے بعد 2015ء میں صنعاء میں اپنا مشن بند کردیا تھا اور اپنے بیشتر سفارتی عملہ کو واپس بلا لیا تھا۔تاہم اس کے یمنی ملازمین بعض دفتری کام انجام دیتے رہے ہیں۔

اس سے قبل امریکی محکمہ خارجہ کے ایک عہدہ دار نے العربیہ کو بتایا تھا کہ گذشتہ سال اکتوبر میں حوثیوں نے امریکی سفارت خانہ کے مقامی یمنی عملہ کے تیس ارکان کو حراست میں لیا تھا لیکن بعد میں انھیں واشنگٹن کے علاقائی شراکت داروں کی مدد سے رہا کروالیا گیا تھا۔

البتہ ایران کے حمایت اس مسلح گروپ نے مزید امریکی ملازمین اور اقوام متحدہ کے لیے کام کرنے والے افراد کو حراست میں لے لیا تھا۔یہ واضح نہیں کہ حوثیوں کی قید میں موجود افراد میں سے کتنے امریکی ملازمین ہیں۔

یمن کے متحارب فریقوں نے رواں ہفتے کے اوائل میں اقوام متحدہ کی حمایت سے جاری جنگ بندی میں مزید دو ماہ کی توسیع پر اتفاق کیا تھا۔اقوام متحدہ اورامریکا برسوں سے جاری جنگ کے مستقل حل کے لیے سفارتی کوششیں کر رہے ہیں۔

یمن کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی ہانس گرنڈبرگ نے منگل کوجنگ بندی میں توسیع پرمتفق ہونے پر تمام فریقوں کا شکریہ ادا کیا۔انھوں نے کہاکہ وہ فریقین کے ساتھ بات چیت کو’’تیز‘‘کریں گے تاکہ جنگ بندی کے ضمن میں تمام فریقوں کی ذمہ داریوں پرمکمل عمل درآمد کو یقینی بنایا جاسکے۔ گرنڈبرگ نے یمن میں جنگ کے خاتمے کی کوششوں میں سعودی عرب اورعمان کی حمایت پران کا شکریہ اداکیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں