.

جوہری معاہدہ بحالی مذاکرات، ایران غیر حقیقت پسندانہ مطالبات نہ کرے: یورپی ممالک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

برطانیہ، فرانس اور جرمنی نے ایران پر زور دیا ہے کہ وہ جوہری معاہدے کے سلسلے میں غیر حقیقت پسندانہ مطالبات نہ کرے، یہ بات ایران کو 2015 کے جوہری معاہدے کی بحالی کے لیے مذاکراتی عمل کے دوران باور کرائی گئی ہے۔ ان دنوں عالمی طاقتوں کے نمائندے اور ایرانی نمائندے کے درمیان ویانا میں مذاکرات جاری ہیں۔ یہ مارچ کے بعد ایک اہم میٹنگ ہے۔

اس مذاکراتی مرحلے کے بارے میں کہا گیا ہے کہ ' ویانا میں ہونےو الے یہ مذاکرات کوئی نیا مذاکراتی دور نہیں بلکہ یورپی ممالک جنہیں ای تھری گروپ کا نام دیا جاتا ہے تکنیکی امور کے حوالے سے ایران سے بات کر رہے ہیں۔'

اس سلسلے میں جاری کردہ یورپی بیان میں کہا گہا ہے کہ مسودہ مذاکرات کی میز پر ہے۔ اب یہ ایران کو فیصلہ کرنا ہے کہ وہ کدھر جانا چاہتا ہے۔ معاہدہ اب بھی ممکن ہے۔ 'اسی لیے ہماری طرف سے ایران کو کہا گیا ہے کہ معاہدے کی طرف اور غیر حقیقت پسندانہ مطالبات نہ کرو۔ کیونکہ اس کے مطالبات اس معاہدے کے دائرے میں نہیں آتے۔'

واضح رہے امریکہ برطانیہ، چین، فرانس، روس، جرمنی اور ایران کے درمیان 'جوائنٹ کمپری ہینسو پلان اف ایکشن' نام سے معاہدے پر اتفاق 2015 میں ہو ا تھا۔ لیکن دو ہزار اٹھارہ میں امریکہ نے یکطرفہ طور پر خود کو اس معاہدے سے الگ کر لیا تھا۔

اس معاہدے میں اقوام متحدہ اور جوہری توانائی سے متعلق بین الاقوامی ادارہ انٹر نیشنل اٹامک انرجی ایجنسی نے معاہدے میں یورینیم کی طے شدہ حد 3،67 فیصد افزودگی سے تجاوز کرنا شروع کر دیا ہے۔ اسے اس حد سے بڑھاتے ہوئے 2021 میں بیس فیصد تک لے گیا ہے جو کہ خلاف ورزی ہے۔ جبکہ بعد ازاں یہ تجاوز 60 فیصد تک پہنچا دیا۔ یہ اس سہولت کے قریب جو جوہری بم بنانے والے کو ضرورت ہوتی ہے کہ وہ یورینم کی افزودگی کو 90 فیصد تک لے جائے۔

ابھی منگل کے روز آئی اے ای اے کے سربراہ رافیل گروسی نے ایران کو انتباہ کیا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام بہت ہی تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے۔ تاہم ایران اپنے خلاف اقدامات کو زیادتی تصور کرتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں