بھارتی پولیس مقبوضہ کشمیرمیں محرم کے جلوس پرپل پڑی، درجنوں افراد گرفتار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

بھارت کے زیرانتظام متنازع ریاست جموں وکشمیر میں پولیس نے محرم کے جلوس پر دھاوا بول دیا ہے اور اس نے درجنوں افراد کو حراست میں لے لیا ہے جبکہ جلوس کوبزورطاقت منتشرکردیا ہے۔

مقبوضہ ریاست کے مرکزی شہرسری نگر کے کچھ حصوں میں متعدد مسلمانوں نے سخت حفاظتی پابندیوں کے باوجودشہدائے کربلا کی یاد میں جلوس نکالا اور اس میں شرکت کے لیے بیسیوں افراد سڑکوں پر نکل آئے۔

بھارتی حکام نے اہل تشیع کے مذہبی جلوس سمیت ہرقسم کے اجتماعات پر پابندی عاید کررکھی ہے۔اتوارکوآٹھویں محرم کا جلوس نکالا گیا اوردوروز بعد یوم عاشورپرحضرت حسین رضی اللہ عنہ اوران کے ساتھی شہدائے کربلا کی یاد میں بڑے جلوس نکالے جائیں گے۔

یادرہے کہ 2020ء میں بھارتی سکیورٹی فورسز نے محرم کے جلوس کومنتشر کرنے کے لیے شاٹ گن پیلٹ اورآنسو گیس کااستعمال کیا تھا جس کے نتیجے میں درجنوں افراد زخمی ہوگئے تھے۔

1989ء میں مقبوضہ جموں وکشمیر میں بھارت سے آزادی یا پڑوسی ملک پاکستان کے ساتھ انضمام کے مطالبے پر مسلح جدوجہد شروع ہوئی تھی۔اس کے بعد سے بھارتی حکام نے مقبوضہ کشمیر میں محرم کے بڑے جلوسوں پرپابندی عاید کررکھی ہے۔ اس تنازع میں ہزاروں شہری، حریت پسند اور سرکاری فورسز کے اہلکار ہلاک ہو چکے ہیں۔

کشمیری مسلمان ایک طویل عرصے سے یہ شکایت کررہے ہیں کہ حکومت امن و امان برقرار رکھنے کے بہانے ان کی مذہبی آزادیوں کو روک رہی اور قدغنیں لگارہی ہے جبکہ کشمیر میں ہمالیہ امرناتھ کی سالانہ ہندویاترا کو فروغ دے رہی ہے جس میں ملک بھر سے لاکھوں ہندو زائرین شرکت کے لیے آتے ہیں۔اس وقت بھی ہزاروں فوجیوں کوغار میں واقع ہندوؤں کے مقدس مقام کی طرف جانے والے راستوں کی حفاظت کے لیے تعینات کیا گیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں