امریکی میرینزاور سعودی افواج ینبع اور الخرج میں مشترکہ مشقیں کریں گی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

امریکا کے میرینزسعودی عرب کی مسلح افواج کے ساتھ مشترکہ فوجی مشقوں میں شرکت لیے ینبع پہنچ گئے ہیں۔

سعودی پریس ایجنسی کے مطابق ’’مقامی فیوری 22‘‘ کے عنوان سے یہ مشتقیں ینبع اور الخرج کی گورنریوں میں ہوں گی۔

ان مشقوں کا مقصد دو طرفہ منصوبوں کو انجام دینے میں سعودی افواج اور امریکی فورسزکے درمیان شراکت داری کو بڑھانا ہے۔

میرین کورفورسزکی مرکزی کمان نے ٹویٹرپرکہا کہ یہ اس طرح کی آٹھویں مشقیں ہیں۔بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ اس مشق میں سعودی مسلح افواج کے ساتھ مشترکہ حربی تزویراتی تیاریوں، بین العملیت، لاجسٹک کارروائیوں پر توجہ مرکوز کی جائے گی۔

اس سے قبل اگست کے اوائل میں امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے اعلان کیا تھا کہ اس نے مشق عقابی عزم 23 کی منصوبہ بندی شروع کر دی ہے۔یہ سعودی عرب میں مئی سے جون 2023 تک ہونے والی حربی میدان کی تربیتی مشقوں (ایف ٹی ایکس) سے منسلک ایک منظرنامے پرمبنی کمانڈ پوسٹ مشق (سی پی ایکس) ہے۔

یہ سالانہ مشق کی سولھویں تکرار ہوگی اور یہ مشرق اوسط میں موجودہ اور ابھرتے ہوئے علاقائی خطرات سے نمٹنے کے لیے مشترکہ ٹاسک فورس کی تشکیل اور اسے استعمال کرنے کے لیے ترتیب دی گئی ہے۔

جولائی کے آخرمیں شاہی سعودی بحریہ نے ایک مخلوط ٹاسک فورس کی کمان سنبھالی تھی جو دنیا کی سب سے بڑی بین الاقوامی بحری شراکت داری کا حصہ ہے۔سینٹ کام کے ایک بیان کے مطابق یہ تیسری بار ہے جب سعودی عرب سی ٹی ایف 150 کی قیادت کررہا ہے۔

سی ٹی ایف 150 ٹاسک فورس کمبائنڈ میری ٹائم فورسزکا حصہ ہے اور ایسی چاربحری فورسز میں سے ایک ہے،یہ 2002 میں خلیج عمان، بحیرہ عرب، بحرہند، خلیج عدن اور بحیرہ احمر میں بحری سیکورٹی آپریشن کرنے کے لیے قائم کی گئی تھی۔

ایس پی اے کی رپورٹ کے مطابق اس سے دہشت گردی اور اس سے وابستہ سرگرمیوں بشمول انسانی اسمگلنگ، منشیات اور ہتھیاروں کی اسمگلنگ سے نمٹنے کے علاوہ تجارت کے آزادانہ بہاؤ کو یقینی بنانے میں مدد ملی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں