امریکا:قومی سلامتی کے سابق مشیربولٹن کےقتل کی سازش پرپاسداران انقلاب کے رکن پرفردِجرم

ایران نے پاسداران اہلکارپرفردِ جُرم کو’بے بنیاد مگرسیاسی محرک‘ پر مبنی قرار دے کر مسترد کر دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

امریکا کے محکمہ انصاف نے ایران کی سپاہِ پاسداران انقلاب کے ایک رکن پرقومی سلامتی کے سابق مشیر جان بولٹن کے قتل کی سازش میں ملوّث ہونے کے الزام میں فردِجُرم عایدکردی ہے۔

محکمہ انصاف نے بدھ کو ایک بیان میں کہا کہ اکتوبر2021 سے شروع ہونے والی عدالتی دستاویزات کے مطابق ایران کے شہر تہران سے تعلق رکھنے والے 45 سالہ شہرام پورصفی عرف مہدی رضائی نے قومی سلامتی کے سابق مشیر جان بولٹن کے قتل کا انتظام کرنے کی کوشش کی تھی۔وہ یہ کارروائی جنوری 2020 میں سپاہ پاسداران انقلاب کی بیرون ملک کارروائیوں کی ذمہ دار القدس فورس کے کمانڈر قاسم سلیمانی کی بغداد میں امریکی فضائی حملہ میں ہلاکت کا بدلہ لینے کے لیے کرنا چاہتے تھے۔

محکمہ انصاف کے مطابق پاسداران انقلاب کی القدس فورس کی جانب سے کام کرتے ہوئے شہرام پورصفی نے واشنگٹن ڈی سی یا میری لینڈ میں جان بولٹن کے قتل کے لیے امریکا کے اندر موجود لوگوں کو تین لاکھ ڈالرادا کرنے کی کوشش کی تھی۔

ایف بی آئی کی نیشنل سکیورٹی برانچ کی ایگزیکٹو اسسٹنٹ ڈائریکٹر لاریسا کنپ نے کہا کہ ایران کی امریکا میں ایسے افراد کے قتل کی منصوبہ بندی کی تاریخ رہی ہے جنھیں وہ اپنے لیے خطرہ سمجھتا ہے لیکن امریکی حکومت کی بھی طویل تاریخ ہے کہ وہ اپنے شہریوں کے تحفظ کو خطرے میں ڈالنے والوں کا احتساب کرے۔

جان بولٹن نے اپنے طورپر محکمہ انصاف، ایف بی آئی اور سیکرٹ سروس کا شکریہ ادا کیا۔انھوں نے ایک بیان میں کہا کہ’’ اگرچہ اس وقت عوامی سطح پر بہت کچھ نہیں کہا جاسکتا لیکن ایک نکتہ غیرمتنازع ہے کہ ایران کے حکمران جھوٹے، دہشت گرد اور امریکا کے دشمن ہیں۔ان کے بنیاد پرست، امریکا مخالف مقاصد میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے،ان کے وعدے بے وقعت ہیں اوران سے لاحق عالمی خطرہ بڑھ رہا ہے‘‘۔

بولٹن نے بائیڈن انتظامیہ پر زوردیا کہ وہ 2015 کے جوہری معاہدے کو بحال نہ کرے۔یہ معاہدہ صدرجو بائیڈن کے منتخب ہونے کے بعد محکمہ خارجہ اور دیگرامریکی حکام کی اولین ترجیح رہا ہے۔انھوں نے کہا کہ’’2015 میں ایران سے طے شدہ مگرناکام جوہری معاہدے میں امریکا کی دوبارہ شمولیت ہمارے اور مشرق اوسط میں ہمارے قریبی اتحادیوں کے لیے ایک بے مثال خود ساختہ زخم ہوگا‘‘۔

ایران کا ردِّعمل

ایران نے امریکا میں سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے قومی سلامتی کے مشیرجان بولٹن کے قتل کی سازش کے الزام میں ایک ایرانی شہری کے خلاف عاید کردہ فردِجُرم پر سخت ردعمل کااظہار کیا ہے اور اس کو بے بنیاد مگرسیاسی محرک پرمبنی قرار دے کرمسترد کردیا ہے۔

ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق وزارت خارجہ کے ترجمان ناصرکنعانی نے ایک بیان میں کہاکہ ان کا ملک ایرانیوں کے خلاف اس طرح کی کارروائی کو مستردکرتا ہے اوریہ سخت انتباہ جاری کرتا ہے کہ ایرانی شہری کے خلاف ایسے مضحکہ خیزالزام اور بے بنیاد بہانے کی بنیاد پرکسی بھی کارروائی سے گریز کیا جائے۔

مقبول خبریں اہم خبریں