ایف بی آئی کی فلوریڈا میں چھاپامارکارروائی سابق صدرٹرمپ کو راس آگئی؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

امریکا کے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ریاست فلوریڈا میں اپنے گھر پر وفاقی ادارہ تحقیقات (ایف بی آئی) کی چھاپا مارکارروائی کو سیاسی انتقام اور ظلم وستم قراردیا ہے۔انھوں نے اس کے چند گھنٹے کے بعد انتخابی مہم کی طرز کی ایک ویڈیو جاری کی ہے۔ یہ اب تک کا سب سے مضبوط اشارہ ہوسکتا ہے کہ وہ 2024 میں صدر جو بائیڈن کے مدمقابل صدارتی انتخاب لڑنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

پیرکے روز ایف بی آئی کی کارروائی کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ یہ دعویٰ کرسکتے ہیں کہ وہ ادارہ جاتی قوتوں کا شکارہیں جوانھیں تباہ کرنے کے درپے ہیں۔ان کے اس بیانیے کی بنیاد پرری پبلکن پارٹی کے لیڈراور کارکنان ایک ایسے وقت میں ان کے ارد گرد جمع ہو رہے تھے جب پارٹی پر ان کی گرفت پھسلتی نظر آرہی تھی۔

ٹرمپ اوران کے اتحادیوں نے منگل کے روزاپنے حامیوں میں غیظ وغضب اورجذبہ پیدا کرنے کی کوشش میں کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں کیااور انھوں فلوریڈا کے پام بیچ میں واقع اپنے مارلاگوگھر پرچھاپے کے بعد ڈالر کمانے کی کوشش بھی کی۔

ٹرمپ نے نئی ویڈیو میں کہا کہ ’’کوئی پہاڑ نہیں ہے جس پر ہم چڑھ نہیں سکتے، کوئی چوٹی نہیں ہے جس تک ہم نہیں پہنچ سکتے، کوئی چیلنج نہیں ہے جس سے ہم نمٹ نہیں سکتے،ہم جھکیں گے نہیں، ہم نہیں ٹوٹیں گے، ہم نہیں مانیں گے‘‘۔انھوں نے ڈیموکریٹک بائیڈن انتظامیہ پرتنقید بھی کی ہے۔

اس اشتہار کے بعد چندہ جمع کرنے کی اپیلوں میں چھاپے کو اجاگر کیا گیا۔

اطلاعات کے مطابق ایف بی آئی کے ایجنٹ 2021 میں صدر کی حیثیت سے ان کی مدت ختم ہونے پر وائٹ ہاؤس سے کلاسیفائیڈ ریکارڈ کے ڈبے ہٹانے کی تحقیقات کررہے ہیں اور وہ اسی کے حصے کے طور پر ٹرمپ کے گھر میں داخل ہوئے تھے۔

ٹرمپ کے اہل خانہ کا کہنا ہے کہ وہ تحقیقات میں تعاون کر رہے ہیں لیکن ابھی تک انھیں کارروائی کا کوئی قانونی جواز فراہم نہیں کیا گیا۔

ٹرمپ کی وائٹ ہاؤس کی سابق اعلیٰ معاون ایلیسا فرح گریفن نے منگل کے روز سی این این کو بتایا کہ اگر دستاویزبرآمد کرنے کے لیے چھاپا مارکارروائی کا نتیجہ عوام کی نظرمیں غیرمعمولی ثابت ہوتا ہے،ریپبلکن ووٹروں میں غیظ وغضب کو جنم دیتا ہے تو اس سے ٹرمپ کو اپنی پارٹی کی نامزدگی حاصل کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔

انھوں نے کہا کہ اگراس واقعہ کو کسی قسم کے بڑے پیمانے پر حد سے تجاوز کے طورپردیکھا جاتا ہے اور ناقابل یقین حد تک سنجیدہ نہیں سمجھا جاتا تو یہ ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے بہت اچھا دن ہے۔

76سالہ ٹرمپ دو مواخذوں اور صدارتی منصب پر فائز ہونے کے دوران میں روس کے ساتھ اپنے تعلقات کی دوررس تحقیقات سے بچنے کے باوجود صدارتی امیدوارہونے کے اہل رہے ہیں۔ان کے مالی معاملات اور ممکنہ انتخابی مداخلت کی تحقیقات جاری ہیں۔

نومبر میں ہونے والے مڈٹرم انتخابات میں بہ طور امیدوارحصہ لینے والے کانگریس کے ری پبلکن اراکین، گورنروں اوردیگرامیدواروں نے اس چھاپے کی مذمت کی تھی۔انھوں نے یہ بھی مؤقف اختیار کیا تھا کہ امریکی محکمہ انصاف نے سیاسی مقاصد کے تحت کام کیا ہے۔

فلوریڈا کے گورنر رون ڈیسنٹیس نے اس چھاپے کو’’انتظامیہ کے سیاسی مخالفین کے خلاف وفاقی اداروں کے بہ طورہتھیار استعمال کرنے کا شاخسانہ قرار دیا ہے۔نیویارک کے سابق گورنر ڈیموکریٹ اینڈریو کیومو نے محکمہ انصاف سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری طور پر چھاپے کی دلیل کی وضاحت کرے۔

مقبول خبریں اہم خبریں