بھارت میں کمرشل جہاز اڑانے کے لیے خواتین پائلٹس کی تعداد سب سے زیادہ

دوسرے ممالک ابھی تک اس معاملے میں بوجوہ تیزی لانے کو تیار نہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

بھا رت کی رہنے والی نویدیتا بھسین آج سے تقریبا 33 سال پہلے دنیا کی سب سے کم عمر کمرشل پائلٹ کے طور پر سامنے آئیں۔ جب اس بھارتی پائلٹ کو یہ امتیاز ملا انہیں دنوں کی اس پائلٹ کو یاد آنے والی بات یہ کہ اس کے جہاز کا عملہ اپنی اس پائلٹ کو مسافروں کے جہاز میں سوار ہونے سے پہلے پہلے 'کاک پٹ' میں پہنچنے کے لیے اصرار کرتا تھا کہ کہیں مسافر ایک خاتون پائلٹ کو دیکھ کر خوف زدہ نہ ہو جائیں کہ ایسے جہاز پر سفر کریں گے جسے ایک خاتون اڑائے گی۔

بھسین نے بطور پائلٹ اپنے کیرئیر کا آغاز1989 میں کیا تووہ اس وقت ایک منفرد حیثیت کی حامل تھیں ۔ مگر آج بھارت میں خواتین پائلٹوں کا ہونا ایک معمول کی بات ہو چکا ہے۔ بھارت میں اس وقت خواتین کمرشل پائلٹ دنیا میں دیگر ممالک کے مقابلے میں سب سے زیادہ ہیں۔

'انٹر نیشنل سوسائٹی آف ویمن ائیر لائنز پائلٹس ' کے مرتب کردہ ایک اندازے کے مطابق بھارت میں کل بروئے کار کمرشل پائلٹوں میں سے 12،4 فیصد پائلٹ خواتین ہیں۔ امریکہ میں خواتین پائلٹوں کا تناسب 5،5 فیصد ہے ، اگرچہ امریکہ دنیا بھر میں سول ایوی ایشن کے میدان میں سب سے بڑی سول ایوی ایشن کا حامل ہے۔ برطانیہ میں خواتین پائلٹس کا تناسب 4،7 فیصد ہے۔

ان بین الاقوامی سطح کے اعدادو شمار کے سامنے آنے کے بعد سوال یہ آتا ہے کہ ایک ایسا بھارت جو اپنے ہاں جنسی امتیاز کے معاملات میں 145 ممالک میں تقریبا آخری درجے کے قریب ہے اور اس کی پوزیشن 135 ویں ہے۔ خواتین کے کمرشل پائلٹ بننے کے شعبے میں کیونکر وہ سب سے آگے نکل گیا؟

ہو سکتا ہے اس ضمن میں سامنے آنے والے جواب دوسرے ملکوں کے لیے ایک اچھے سبق اور مثال کی حیثیت رکھتے ہوں کہ وہ بھی اپنے ہاں خواتین کمرشل پائلٹوں کی تعداد بے خوفی سے بڑھانا ممکن بنا سکیں۔ ایسے کاروبار جن میں زیادہ تنوع ہے کہ ان میں بہتر کام کیا جا سکتا ہو، اس تناظر میں بعض شعبوں کے حوالے یہ چیز مختلف سٹڈیز میں بھی ثابت ہوئی ہیں کہ خواتین پائلٹس کے ساتھ کم تر واقعات پیش آئے ہیں۔

خواتین پائلٹوں کو ملازمت زیادہ دینے کی صورت میں انہیں سٹاف کی جس قلت کا سامنا کووڈ 19 کی وجہ سے اس کا ازالہ ہو سکے۔ کیونکہ کووڈ 19 کی وجہ سے ٹریولنگ متاثر ہوئی ہے۔ بھسین کہتی ہیں بھارتی خواتین کو پائلٹ بننے کے لیے کئی پہلووں سے حوصلہ افزائی میسر ہے، یہ حوصلہ افزائی کارپوریٹ پالیسیوں کی طرف سے بھی ہے اور خواتین کو اپنے خاندانوں کی طرف سے بھی مضبوط حمایت مل جاتی ہے۔

بہت ساری بھارتی خواتین کو نیشنل کیڈٹ کور کے ہوائی شعبے کے ذریعے فلائنگ کی طرف لایا جاتا ہے۔ یہ شعبہ 1948 سے قائم ہے۔ یہ اس وقت سے ایک طرح سے سٹوڈنٹس کو فلائنگ کی طرف لانے اور مواقع دینے کی کوشش ہے۔ تاکہ پائلٹ بننے کے بھاری اخراجات کے بغیر بھی خواتین کو راستہ اور رسائی دی جائے۔

بعض بھارتی حکومتوں نے بھی اس سلسلے میں سبسڈیز دیں۔ کمپنیوں کو بھی رعائیتں دی گئیں ۔ اسی وجہ سے ہنڈا موٹر کمپنی بھی انڈین فلائنگ سکول میں فلائنگ کورس کے لیے 18 ماہ کی تربیت کا مکمل سکالر شپ پیش کرتی ہیں۔ بعد ازاں سکالر شپ کی بنیاد پر پائلٹ بننے والوں کی ملازمت کے لیے بھی تعاون دیتی ہے۔

جیسے یوتھ پروگرام کی طرز جہاں سٹوڈنٹس کو تربیت دی جاتی ہے کہ وہ مائیکرو ائیر کرافٹ چلا سکیں۔تاکہ کمرشل پائلتوں کی مہنگی تربیت خواتین کے لیے زیادہ قابل رسائی ہوجاتی ہے۔

ایمبری ریڈل ایروناٹیکل یونیورسٹی فلوریڈا کی پروفیسر میکیلے ہالیرین کا کہنا ہے کہ بھارت نے خواتین کو مختلف شعبوں مضبوط پوزیشنیں دینے کی کوشش کی جاتی ہے انہیں پائلٹ بھی بنایا جاتا ہے۔ اسی طرح بھارتی ائیر فورس نے بھی 1990 خواتین کو بطور پائلٹ بھرتی کرنا شروع کر دیا تھا تاہم انہیں ہیلی کاپٹر اور ٹرانسپورٹ طیارے اڑانے کے لیے دینے تک محدود تھی۔ اس سال سے خواتین کو فائٹر پائلٹ بننے کے مواقع دینے کے فیصلے کی شنید ہے
دوسری جانب بعض بھارتی ائیر لائنز ایسی پالیسیاں بنا رہی ہیں کہ وہ اب خواتین کے ٹیلنٹ کو روکنا چاہتے ہیں۔ ' انڈیگو' بھارت کی سب سے بڑی ائیر لائن ہے۔ یہ خواتین کو بطور پائلٹ لینے اور دوسرے شعبوں کے لیے بھی ہائر کرنے کی خاطر اپنی پالیسی میں نرمی لانے کی کوشش میں ہے

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں