مصر: طالبہ کا قاتل ڈرامائی انداز میں گرفتار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

مصرمیں ایک اور ہولناک قتل کی واردات نے چند ماہ قبل ہونے والی ایسے ہی قتل کی یاد تازہ کردی جس میں نیرہ اشرف نامی لڑکی کو ایک لڑکے نے ذبح کردیا تھا۔

ملک کے شمالی شہر زقازیق میں ایک طالب علم نے جنرلزم ڈیپارٹمنٹ کی ساتھی طالبہ سلمیٰ شودافی کو چاقو کے وار کرکے موت کے گھاٹ اتار دیا۔

جرم کے ارتکاب کے بعد ملزم فرار ہوگیا مگر پولیس نے اسے ڈھونڈ نکالا اور اسے ڈرامائی انداز میں گرفتار کرکے اس کے خلاف کارروائی شروع کردی ہے۔ ملزم کی شناخت اسلام محمد کے نام سے کی گئی ہے۔

ملزم کی گرفتاری کے وقت کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر نشر کی گئی ہے۔ اس میں اسے اول فول بکتے سنا جا سکتا ہے جب کہ اس کے ہاتھ میں ایک چاقو بھی ہے جسے مبینہ طور پر قتل کی واردات میں استعمال کیا گیا ہے۔ ملزم کے قبضے سے پچاس ہزار مصری پاوٗنڈ بھی برآمد کیے گئے ہیں۔

زبانی تکرار پھر جھگڑا

’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘ کو سکیورٹی ذرائع اور ہلاک ہونے والی خاتون کے دوستوں سے حاصل کردہ معلومات سے پتا چلا ہے کہ سلمیٰ اور اسلام الشروق یونیورسٹی کی میڈیا فیکلٹی میں ہم جماعت تھے۔ یہ لڑکی ایک صحافی کے طور پر تعلیم حاصل کر رہی تھی۔ لڑکی زقازیق شہر کے ایک مقامی اخبار کے ساتھ بھی منسلک تھی جب کہ لڑکا اس سے یک طرفہ محبت کا دعویدار تھا۔

سکیورٹی فورسز کی تحقیقات میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ مقتولہ 20 سالہ سلمیٰ بہجت محمد اور ملزم 20 سالہ اسلام محمد فتح محمد زقازیق میں زیدان بلڈنگ کے کوریڈور میں ملے اور دونوں کے درمیان زبانی تکرار ہوئی جو جھگڑے کی شکل اختیار کر گئی۔ جس کے دوران ملزم نے لڑکی پر چھری کے کئی وار کیے جو اس کے لیے جان لیوا ثابت ہوئے۔ اس واقعے کو کچھ دکانداروں اور راہ گیروں نے بھی دیکھا۔

سوشل میڈیا کے ذریعے دھمکیاں

تفتیش میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ ملزم نے اپنے انسٹاگرام پیج پر کئی پوسٹس کیں جس میں اس نے لڑکی کو قتل کرنے کی دھمکیاں دیں۔ اس نے ایک خون آلود چھری کی تصویر بھی پوسٹ کی جس اور آلہ قتل کے ذریعے اسے دھمکانے کی کوشش کی تھی۔

سکیورٹی سروسز کو دیے گئے اپنے بیان میں قاتل نے کہا کہ وہ لڑکی سے محبت کرتا تھا اور اس سے شادی کرنے کا ارادہ رکھتا تھا۔ اس سے بے پناہ محبت کی وجہ سے اس نے اپنے سینے اور ہاتھوں پر اس کی تصویر اور ٹیٹو بنوایا۔اس نے مزید کہا کہ لڑکی اس کے ساتھ پیار نہیں کرتی تھی اور شادی نہیں کرنا چاہتی تھی جس پر میں نے اسے قتل کرنے کا پروگرام بنایا۔

تحقیقات کے دوران پتا چلا کہ ملزم نے لڑکی پر چاقو کے پندرہ وار کیے اور اسے خون میں لت پت چھوڑ کر فرار ہوگیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں