امریکا میں چار مسلمانوں کے قتل میں ملوث مشتبہ ملزم گرفتار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

امریکی ریاست نیو میکسیکو کی پولیس نے منگل کے روز کہا ہے کہ انہوں نے ریاست کے شہر البوکرک میں 4 مسلمانوں کے قتل کے مرکزی ملزم کو گرفتار کر لیا ہے۔ 51 سالہ محمد سید کو سوموار کے روز دو افراد کے قتل کے شبے میں پکڑا گیا۔ اس کی رہائش گاہ سے متعدد آتشیں اسلحہ بھی برآمد کیا گیا ہے۔

تاہم، پولیس کا خیال ہے کہ سید جو کہ حالیہ برسوں میں افغانستان سے امریکہ آیا نےاگر قتل کا ارتکاب کیا ہے کہ تو نفرت کی بنا پر نہیں کیا، بلکہ شاید ذاتی مقاصد کے لیے کیا۔

شہر کے پولیس سربراہ ہیرالڈ میڈینا نے ’ٹویٹر‘ پر لکھا کہ پولیس نے قتل کی تحقیقات کے لیے ایک اہم کار کا سراغ لگایا۔ پولیس نے پناہ گزینوں کو خدمات فراہم کرنے والے دفتر کے قریب قتل کی واردات میں مبینہ طور پر ملوث شخص کو گرفتار کرلیا ہے۔

امریکی صدر جو بائیڈن قتل کے چاروں واقعات کو دہشت ناک قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ البوکرک میں چار مسلمان مردوں کے ہولناک قتل سے میں افسردہ ہوں جب کہ ہم مکمل تحقیقات کے منتظر ہیں۔ میری دعائیں متاثرین کے اہل خانہ کے ساتھ ہیں۔ میری انتظامیہ مسلم کمیونٹی کے ساتھ مضبوطی سے کھڑی ہے۔ ان نفرت انگیز حملوں کی امریکا میں کوئی جگہ نہیں ہے۔

البوکرک اور ریاست میں حکام نماز کے اوقات میں مساجد کے ارد گرد مزید پولیس تعینات کر رہے ہیں۔ نیو میکسیکو کے سب سے بڑے شہر البوکرک میں 5000 سے زائد مسلمان آباد ہیں، جن میں سے زیادہ تر کو چاروں افراد کو نشانہ بنانے والی فائرنگ پر تشویش ہے۔ مقامی مسلمان آبادی کو فائرنگ اور قتل کے ان واقعات پر تشویش ہے جن میں ایک پاکستانی اور ایک افغان تارک وطن کو ہلاک کردیا گیا۔

نیو میکسیکو کے اسلامک سنٹر کے پبلک افیئرز کے ڈائریکٹر طاہر گوبا نے شہر کے البوکرک جرنل کو بتایا، "اب لوگ خوفزدہ ہونے لگے ہیں۔" ان میں سے ایک گذشتہ نومبر میں مارا گیا تھا، جب کہ 3 دیگر افراد گزشتہ دو ہفتوں کے دوران مارے گئے تھے۔ .

مرنے والے62 سالہ محمد احمدی،25 سالہ نعیم حسین ،27 سالہ محمد افضل حسین اور41 سالہ آفتاب حسین شامل ہیں۔ نعیم حسین کے بارے میں معلومات ملی ہیں کہ وہ وہ 2016 میں پاکستان سے ایک پناہ گزین کے طور پرامریکا میں منتقل ہوا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں