'آپ کی طرح'زمین بھی تیز ہوگئی،زمین کے گھومنے کی رفتار میں تیزی جون 2022 میں ریکارڈ

سائنسدان تیزی کو تشویش انگیز خیال نہیں کرتے۔ یہ بھی یقین سے کہنا مشکل ہے کہ رفتار میں اضافہ کیوں ہوا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

سائنسدانوں نے ہمیشہ کے مقابلے میں زمین کے تیز رفتاری سے گھومنے کا انکشاف کیا ہے۔ تاہم سائندانوں نے اطیمنان ظاہر کیا ہے کہ چیز تویش انگیز نہیں ہے۔ ' ٹائم اینڈ ڈیٹ ڈاٹ کام ' پر کیے گئے دعوے کے مطابق 24 گھنٹوں کے دوران 29 جون کو زمین کی رفتار 1،59 ملی سیکنڈ تیز ریکارڈ کی گئی۔ ۔

یہ رفتار اس ریکارڈ شدہ رفتار کے مقابلے میں زیادہ ہے، جو 1960 میں اب تک کی سب سے زیادہ درست رفتار ریکارڈ کی گئی تھی۔ یہ 2020 کے ان 28 تیز ترین گھومائی ریکارڈ دنوں کے مقابلے میں بھی زیادہ ہے ۔ 19 جولائی 2020 کی ریکارڈڈ زمینی رفتار 24 گھنٹوں کے دوران 1،47 ملی سیکنڈز کم ریکارڈ کی گئی تھی۔

اس کے بعد 20121 میں زمین کی گھومنے کی رفتار تیزی کی طرف مائل رہی ۔ حالانکہ 2021 کا مختصر ترین دن پچھلے برس 2020 کے مختسر ترین دن سے نسبتا طویل تھا۔ اس مشاہدے سے گزرنے کے بعد جون دوہزار 2022 کے لیے ریکارڈ سیٹ کیا گیا۔ تو اسکی رفتار سب سے زیادہ ریکارڈ کی گئی جس سے معلم ہوا کہ یہ تقریبا 1،50 سیکنڈز زیادہ رفتار سے گھومی ہے۔ یہ رفتار 26 جولائی کے 24 گھنٹوں کے مقابلے میں بھی زیادہ رہی۔

سائنسدان دنوں کے چھوٹے ہونے کے اس نتیجے کے بعد یہ سمجھنے سے ابھی تک قاصر ہیں کہ زمین کی رفتار کی اس تیزی کی وجہ کیا ہے۔ اگرچہ اس حوالے سے مختلف تصورات پیش کیے گئے ہیں۔

ان تصورات میں سے ایک خیال یہ ہے کہ اس تبدیلی کی وجہ ہو سکتا ہے چاندلری اثرات کی وجہ سے ہوئی ہو۔ جسے زمین کے گھومنے میں ایک ریکارڈ کیے گئے ہیں ۔انہیں ایک تحرک یا ہلچل کا نام دیا جا سکتا ہے۔ جبکہ دیگر تصورات میں یہ بھی شامل ہے کہ یہ تیزی موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے بھی ہو سکتی ہے اور سمندری مدوجزر کی وجہ سے بھی ہو سکتی ہے ۔
سائندانوں کے بقول یہ ایسی تبدیلی نہیں ہے کہ جس سے کوئی تشویش ہو۔ نہ ہی ایسی تیز رفتاری ہے کہا سب سائندان اٹھیں اور دیکھنے نکل پڑیں، اگر یہ رفتار حد سے زیادہ مطابقت پذیر ہو جاتی تو سائنسدان اس رفتار کو ناپنے والی ایٹمی گھڑی کو اس طرح استعمال کر لیتے کہ ایک لیپ سیکنڈ کا اضافہ کرنا پڑتا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں