جوہری دستاویزات کی تلاش میں ایف بی آئی کا سابق صدر ٹرمپ کے گھر چھاپہ

ڈونلڈ ٹرمپ کے گھر کی تلاشی لینے کی اجازت اٹارنی جنرل مارک گارلینڈ نے دی تھی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

امریکہ کے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے گھر پر وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف بی آئی) کے ایجنٹنوں نے چھاپہ مارا ہے۔ مؤقر امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کے مطابق چھاپہ مارنے والے سکیورٹی اہلکاروں کو جوہری ہتھیاروں سے متعلق دستاویزات کی تلاش تھی۔

خبر رساں ادارے رائیٹرز نے امریکی اخبار میں شائع ہونے والی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ واضح نہیں کہ وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف بی آئی) کی ٹیم ڈونلڈ ٹرمپ کے گھر سے دستاویزات حاصل کر سکی تھی یا نہیں۔

تاہم تمام معاملے سے واقف ایک ذرائع نے بتایا کہ ایف بی آئی نے تلاشی کے دوران دس ڈبے برآمد کیے ہیں۔

خیال رہے کہ پیر کو سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے فلوریڈا پام بیچ والے گھر ’مار اے لاگو‘ میں ایف بی آئی نے چھاپہ مارا تھا اور تلاشی کے دوران وہاں موجود ایک سیف کو بھی توڑا تھا۔ اس وقت ڈونلڈ ٹرمپ فلوریڈا میں موجود نہیں تھے۔

امریکی محکمہ انصاف نے جج سے کہا ہے کہ وہ اس وارنٹ کو منظر عام پر لے کر آئیں جس کے تحت سابق صدر کے گھر پر چھاپہ مارا گیا۔

ایف بی آئی کی ٹیم کی جانب سے ڈونلڈ ٹرمپ کے گھر پر چھاپہ مارنے کا مقصد یہ جاننا تھا کہ جنوری 2021 میں وائٹ ہاؤس چھوڑتے وقت کوئی سرکاری ریکارڈ تو غیر قانونی طور پر اپنے ساتھ نہیں لے کر گئے۔

محکمہ انصاف کے مطابق ان میں سے کچھ کلاسیفائیڈ دستاویزات ہیں جو خفیہ رکھی جاتی ہیں۔

صدر جو بائیڈن کے نامزد کردہ اٹارنی جنرل مارک گارلینڈ نے پریس کانفرنس میں بتایا ہے کہ انہوں نے خود ڈونلڈ ٹرمپ کے گھر کی تلاشی لینے کی اجازت دی تھی۔

اٹارنی جنرل کا پریس کانفرنس میں اس نوعیت کے چھاپے کی تصدیق کرنا انتہائی غیر معمولی اقدام ہے۔

امریکہ میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار عام طور پر جاری تحقیقات سے متعلق کھلے عام بات چیت نہیں کرتے تاکہ لوگوں کے حقوق کا تحفظ کیا جا سکے۔ تاہم اس کیس میں ڈونلڈ ٹرمپ نے خود پیر کی رات کو بیان جاری کیا تھا کہ ان کے گھر پر ایف بی آئی نے چھاپہ مارا ہے۔

دوسری جانب محکمہ انصاف نے کہا ہے کہ ایف بی آئی کی جانب سے سابق صدر کے گھر سے قبضے میں لی گئی اشیا کے متعلق بھی عوام کو بتایا جائے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں