ڈرون طیاروں کے لین دین پر روس اور ایران دونوں کو سخت امریکی پابندیوں کا انتباہ

ڈرون طیاروں کے پرزوں کی ایران کو فراہمی کا نیٹ ورک بھی ختم کریں گے: امریکی دفتر خارجہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

امریکہ نے خبر دار کیا ہے کہ روس اور ایران کے درمیان اسلحے کی تجارت قبول نہیں کی جائے گی اور اس وجہ سے ان پر اقتصادی پابندیوں کو زیادہ مضبوطی سے عاید کرے گا۔ امریکی دفتر خارجہ کی طرف سے یہ بات ایران سے روسی اہلکاروں کو ڈرون استعمال کی تربیت کے سلسلے میں ایک سوال پر کہی گئی ہے۔

جوبائیڈن انتظامیہ نے پہلی بار روس کے لیے ایرانی ڈرون طیاروں کی فراہمی اور روسیوں کو تربیت دینے کے معاملے پر پچھلے ماہ بات کی تھی کہ امریکہ کو ایسی اطلاعات مل رہی ہیں۔ یہ بھی کہا گیا تھا کہ ان ایرانی ڈرون طیاروں کو روس یوکرین کے خلاف استعمال کرے گا ۔

امریکی دفتر خارجہ کے ایک ذمہ دار 'العربیہ ' کو بتایا ہے کہ ' گذشتہ کئی ہفتوں کے دوران روسی حکام نے ڈرون طیاروں کے حصول کے معاہدے کے حصے کے طور پر ایرانی ماہرین سے تربیت حاصل کی ہے۔ '

دفتر خارجہ کے نائب ترجمان وینڈت پٹیل نے اس بارے میں ' العربیہ'کوبتا یا کہ امریکہ نے ان تمام امور کا جائزہ لیا ہے کہ ایران کی طرف سے روس کو حملہ کرنے کی صلاحیت رکھنے والے ڈرون طیارے موصول ہوئے ہیں ۔ امریکہ کو ایران کے ان ڈرونز کے بارے میں غیر معمولی طور پر تشویش ہے۔'

نائب ترجمان نے مزید کہا ' ایرانی ڈرون امریکی افواج اور امریکی اتحادیوں کے خلاف استعمال ہو سکتے ہیں ، اس لیے امریکہ صرف اقتصادی پابندیوں تک نہ رہے گا بلکہ اس خطرے سے نمٹنے کے لیے پیچھے تک جائے گا اور ایران کو ڈرونز سے متعلق لوازمات فراہم کرنے والوں اور ایرانی خریدداری کے پورے نیٹ ورک کو ختم کرنے کے اقدامات بھی کرے گا۔ '

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں