بیس سال سے اپنے ٹائپ رائٹر سے منسلک سعودی طلال الراشدی سے ملیے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

بیس سال پہلے سعودی طلال الرشیدی نے اپنی نشست اور اس میز کو نہیں چھوڑا تھا جس پر وہ گاہکوں کی دستاویزات تحریر کرتے تھے۔ لوگ الرشیدی سے اس کے ٹائپ رائٹر پر چیزیں ٹائپ کراتے جس کے بعد انہیں متعلقہ حکام کو بھیجا جاتا تھا۔ اگرچہ اب ٹیکنالوجی ترقی کرچکی ہے مگر الرشیدی اپنے ٹائپ رائٹر، کاغذوں اور سیاہی کو ترک نہیں کرسکے ہیں۔

الرشیدی ہفتے کے ہر روز صبح سات بجے اٹھتے ہیں اور حایل شہر کے ایک سرکاری کمپلیکس کی طرف جاتے ہیں۔ کبھی اپنے ساتھ مشہور جاپانی "کوواک" اور کبھی قدیم جرمن "ADLER" مشین کو لکھنے کے لیے لے جاتے ہیں۔ وہ دفتری تحریریں ٹائپ کرتے ہیں اور دوپہر کو دو بجے واپس آجاتے ہیں۔ الرشیدی بھی ہر سال ریاض جا کر دس ریال کی سیاہی خریدتے ہیں جس سے وہ اپنے ٹائپ رائٹر میں استعمال کرتے ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے ساتھ اپنے انٹرویو میں الرشیدی نے اپنی شروعات کو یاد کیا جب اس وقت ٹائپ رائیٹرکی مارکیٹ اور اس کی مانگ تھی۔ اس وقت انہوں نے ٹائپ رائٹر پرلکھنے کا پیشہ اپنایا۔ چھ سال کے بعد انہوں اپنا ٹائپ رائٹر خرید لیا۔

الرشیدی کہتے ہیں کہ فون اور جدید نظام نے اس کام کو مشکل بنا دیا ہے۔ کسی دور میں وہ دن میں سولہ عرائض لکھ لیتے تھے مگرآج دن میں چھ بھی نہیں ملتیں۔ شروع میں وہ ایک تحریر ٹائپ کرنے کے 15 سے 40 ریال تک لیتے تھے۔

آڈیٹرز کے اعتراضات مختلف عہدوں کے افسران کو بھیجے جاتے ہیں۔ اس تناظر میں الرشیدی کا دعویٰ ہے کہ تجویز کی تحریر اس وقت مختلف ہوتی ہے جب موضوع امیر، وزیر، یا کوئی سرکاری ادارہ ہو جیسے پاسپورٹ، شہری حیثیت اور وزارتیں وغیرہ۔ ان کا بیس سال کا تجربہ اب ان کے لیے ایک اچھی تحریرمیں مدد دیتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں