ترکیہ: ڈیمنشیا کے مرض میں مبتلا کرد اپوزیشن رہ نما کی رہائی کی درخواست مسترد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
1 منٹ read

ترکی کی ایک آئینی عدالت نے ڈیمنشیا میں مبتلا کرد اپوزیشن رہ نما کی رہائی کی درخواست مسترد کر دی۔

عدالت نے کرد اپوزیشن رہ نما آیسل توگلوک کو رہا کرنے اور پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کے سابق نائب سربراہ جو 2021 سے ڈیمنشیا میں مبتلا ہیں کے خلاف جاری کی گئی سزا پر عمل درآمد ملتوی کرنے سے انکار کر دیا۔

لیکن عدالت نے ایک ہنگامی اقدام کی منظوری دے دی جس کے تحت 57 سالہ توگلوک کو علاج کروانے اور ہسپتال میں نیورولوجسٹ اور سائیکاٹرسٹ سے مشورہ کرنے کی اجازت دی گئی۔

عدالت نے کہا کہ اس کی پیتھولوجیکل حالت کی نشوونما کے لیے فالو اپ کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس کے لیے وقتاً فوقتاً جائزہ لیا جانا چاہیے۔

توگلوک کو 2016 میں گرفتار کیا گیا تھا اور انہیں 2018 میں "دہشت گرد تنظیم سے تعلق" کے جرم میں 10 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔

انہیں "ڈیموکریٹک سوسائٹی کانفرنس" کی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کا مجرم قرار دیا گیا تھا۔ یہ تنظیم جسے ترک حکام کردستان ورکرز پارٹی سے منسلک سمجھتے ہیں اور اسے انقرہ اور اس کے مغربی اتحادی "دہشت گرد" تحریک قرار دے چکے ہیں۔

ترک میڈیا کی رپورٹ کے مطابق اگست کے اوائل میں ہونے والی سماعت میں انہوں نے کہا کہ "مجھے نہیں معلوم کہ مجھ پر کیوں مقدمہ چلایا جا رہا ہے۔ مجھ سے کب کہاں کون سا قصور ہوا ہے‘۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں